نئی دہلی : دہلی ہائیکورٹ نے پیر کو اس درخواست کو خارج کر دیا ، جس میں کووڈ- 19 کے بڑھتے معاملات اور فضائی آلودگی کی سطح کے مد نظر ‘آپ’ حکومت کو شہر میں فوری طور پر لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی ہدایت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔دہلی میں فوری اثر سے لاک ڈاؤن لگانے کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ نے درخواست گزار سے پوچھا کہ کیا لاک ڈاؤن واحد متبادل ہے ؟ عدالت نے عرضی کو آدھی – ادھوری اور غیر ضروری قرار دیا۔ چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جسٹس پرتیک جالان کی بینچ نے کہا کہ یہ درخواست کسی پیشگی تیاری کے بغیر دائر کی گئی ہے اور اسے مسترد کرنے کے ساتھ- ساتھ اس پر جرمانہ بھی لگایا جانا چاہئے ۔
درخواست گزار ڈاکٹر کوشل کانت مشرا کی جانب سے پیش وکیل پوجا دھر سے بینچ نے پوچھا کہ کیا وہ درخواست واپس لیں گی یا عدالت اسے خارج کر نے کے ساتھ – ساتھ جرمانہ بھی عائد کرے ۔ مشرا کے وکیل نے درخواست واپس لینے پر اتفاق کیا اور مناسب حکام کے سامنے اس کو پیش کرنے کی اجازت مانگی۔ عدالت نے ایسی کسی بھی منظوری سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ درخواست واپس لی گئی ہوئی مانتے ہوئے اس کو خارج کیا جاتا ہے ۔
دہلی حکومت کے ایڈیشنل مستقل ایڈوکیٹ گوتم نارائن نے بینچ کو آگاہ کیا کہ مرکزی حکومت نے تمام ریاستوں اور مرکزی ریاستوں کو مخصوص ہدایات دی ہیں کہ لاک ڈاؤن اس کی اجازت کے بغیر نہیں لگایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ درخواست گزار کو مرکزی حکومت کو اس معاملے میں فریق بنانا ہوگا، کیونکہ دہلی حکومت ان کی رضامندی کے بغیر لاک ڈاؤن نافذ نہیں کرسکتی ہے۔
ان کی دلیل پر غور کرتے ہوئے بینچ نے کہا کہ مرکزی حکومت کو فریق نہیں بنایا گیا ہے۔ یہ ایک آدھی ادھوری درخواست ہے۔ اس کو دائر کرنے سے پہلے آپ نے کوئی تیاری نہیں کی تھی۔ آپ نے غیر ضروری مقدمہ دائر کیا ہے۔ سماعت کے وقت ، بینچ نے دھر کو یہ بھی بتایا تھا کہ لاک ڈاؤن لگانا ایک پالیسی فیصلہ ہے اور عدالت اس سلسلے میں ہدایات جاری نہیں کرسکتی ہے۔