دہلی فسادات: پارلیمنٹ میں تعطل برقرار، راجیہ سبھا کی کارروائی 11 مارچ تک ملتوی

نئی دہلی: دہلی فسادات 2020 پر بحث کروانے کے مسئلے پر راجیہ سبھا میں مسلسل پانچویں دن بھی حذب اقتداراور حذب مخالف کے درمیان تعطل جاری رہا اور اپوزیشن کے ہنگامے کے سبب ایوان کی کارروائی بدھ یعنی پانچ مارچ تک ملتوی کرنی پڑی۔ ادھر لوک سبھا میں بھی حزبِ اختلاف جماعتوں کے ہنگامے کی وجہ سے لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کر دی گئی۔

راجیہ سبھا میں دونوں فریقوں کے درمیان اس مسئلے پر تعطل کے سبب بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے کے پہلے ہفتے میں ایک دن بھی کام کاج نہیں ہو سکا ہے۔ حکومت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ وہ اس مسئلے پر ہولی کے بعد بحث کے لیے تیار ہے لیکن اپوزیشن تمام کام روک کر پہلے اس مسئلے پر بحث کروانے کے مطالبے پربضد ہے۔

چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے جمعہ کو قانون سازی سے متعلق دستاویز ایوان کی میز پر ركھوانے کے بعد جیسے ہی وقفہ صفر کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما کیلاش سونی کا نام پکارا …کانگریس، ترنمول کانگریس، عام آدمی پارٹی، سماج وادی پارٹی، ڈی ایم کے، اور بائیں بازو کی جماعتوں کے اراکین اپنی اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر تیز آواز میں بولنے لگے۔ کچھ اراکین نعرے بازی بھی کر رہے تھے۔

نائیڈو نے اراکین سے پرسکون رہنے اور وقفہ صفر چلنے دینے کی اپیل کی لیکن ترنمول کانگریس اور کانگریس کے کچھ اراکین اسے نظر انداز کرتے ہوئےچیئر کے قریب آکر بولنے لگے۔ چیئرمین نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اراکین کارروائی نہیں چلنے دینا چاہتے اور وہ اس بارے میں ذہن بنا کر آئے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چیئر کے قریب آنے والے اراکین فوری طور پر اپنی سیٹ پر چلے جائیں ورنہ انہیں ان کا نام لینا پڑے گا۔ اراکین پر اس کا اثر نہ ہوتا دیکھ کر انہوں نے ایوان کی کارروائی بدھ کو گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا۔ وقفہ صفر شروع ہونے سے پہلے نائیڈو نے اپنے تبصرے میں اراکین سے بحث میں حصہ لینے اور ایوان چلنے دینے کی اپیل کی تھی۔

لوک سبھا کی کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی

دہلی فسادات کے مدنظر وزیر داخلہ امت شاہ کے استعفیٰ اور وزیر اعظم مودی کے بیان کے مطالبے کے سلسلے میں اپوزیشن کے ہنگامے کے سبب لوک سبھا کی کارروائی جمعہ کو پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ دو بار ملتوی کرنے کے بعد دوپہر 12.45 بجے جب ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو اپوزیشن پارٹی کانگریس کا ہنگامہ حسبِ سابق جاری رہا۔ اس کے اراکین نعرہ لگاتے ہوئے ہاتھوں میں پوسٹر لیے اسپیکر کی چیئرکے قریب پہنچ گئے۔ انہوں نے اپنی باہوں پر سیاہ پٹی باندھ رکھی تھی۔

ہنگامے کے دوران ہی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے انسولونسی اور بینکرپسی کوڈ(دوسرے ترمیمی) بل کو غوروخوض کے لیے پیش کیا۔ بل کو بغیر بحث کے ہی صوتی ووٹ سے پاس کر دیا گیا۔ اس طرح حکومت کی جانب سے کیے گئے تمام ترامیم کو قبول کر لیا گیا۔ اس کے بعد ایوان کی کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading