Swati Maliwal,Delhi Commission for Women Chief: At one of the shelter homes in Dwarka, Delhi, girls were tortured, they were beaten up & two of the girls who are just 6-7 years of age, chilli powder was inserted into the private parts, to punish them. An FIR has been registered. pic.twitter.com/3B6rYJRc9y
— ANI (@ANI) December 29, 2018
خواتین کمیشن کی خصوصی کمیٹی نے 6 سے 15 سال کی 22 لڑکیوں کے ساتھ گفتگو کی
لڑکیوں نے الزام لگایا کہ کام نہ کرنے پر انھیں مرچ پاؤڈر کھلایا جاتا ہے
نئی دہلی:دسمبر 29، 2018،
نئی دہلی کے دوارکا میں واقع ایک شیلٹر ہوم میں معصوم لڑکیوں کو ہراساں کرنے کے کیسس سامنے آئے ہیں دلی خواتین کمیشن کی طرف سے تشکیل کردہ ماہر کمیٹی کی تحقیقات کے دوران، لڑکیوں نے الزام لگایا ہے کہ پناہ گاہ میں خواتین کے عملے نے سزا کے طور پر ان کی شرم گاہوں میں مرچی پاؤڈر ڈالا. اس معاملے میں، کمیشن کی پہل پر، پولیس نے شیلٹر ہوم کے عملے کے خلاف پکوسو ایکٹ اور جے جے ایکٹ میں مقدمہ درج کیا. ہفتہ کی رات، شیلٹر ہوم کے خاتون عملے کے چار ارکان کو گرفتار بھی کیا گیا.
6-15 سال کی لڑکیوں کے ساتھ گفتگو میں پتہ چلا معاملہ
دلی حکومت کی مشورے پر، خواتین کمیشن نے حکومتی اور نجی پناہ گاہوں کی تحقیقات کے لئے ایک کمیٹی قائم کی. اس کمیٹی نے شیلٹر ہوم میں رہنے والے 6 سے 15 سال کی عمر کی 22 لڑکیوں سے گفتگو کی.
لڑکیوں نے الزام لگایا ہے کہ ڈسپلن کے نام پر شیلٹر ہوم والے ان کو زبردستی مرچ کھلاتے ہیں۔ خواتین اسٹاف بچیوں کے پرائیوٹ پارٹ میں مرچ ڈال دیتی ہیں۔ کمرہ صاف نہیں کرنے پر،اسٹاف کی بات نہیں ماننے پر اسکیل سے پیٹا جاتا ہے۔
یہ پتہ چلا تھا کہ پناہ گاہ میں مناسب کارکنوں کی کمی کی وجہ سے، پناہ گزین لڑکیوں سے گھریلو کام صفائی، برتن دھونے، کمرےوں اور ٹوائلٹ کی صفائی کے لئے اِستعمال کیا جاتا تھا. لڑکیوں کو اپنے کمرے کی صفائی نہ کرنے اور عملے کی بات. نہ ماننے پر پٹی اسکیل سے مارا گیا تھا. موسم گرما اور موسم سرما کی تعطیلات کے دوران انہیں گھر جانے کی اجازت نہیں ملتی تھی.
دہلی وومین کمیشن کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بڑی عمر کی لڑکیوں کو شیلٹر ہوم میں سارے گھریلو کام کرنے پڑتے ہیں۔ اسٹاف بہت کم ہے، اس لیے بڑی لڑکیاں ہی چھوٹی لڑکیوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ بڑی لڑکیوں سے برتن دھلوائے جاتے ہیں۔ کمرے اور ٹوائلٹ صاف کروائے جاتے ہیں۔ 22 لڑکیوں کے لیے کھانا بنانے والا ایک ہی آدمی ہے۔ کھانے کی کوالٹی بھی خراب ہوتی ہے۔
بڑی لڑکیوں نے بتایا کہ کوئی بات نہیں ماننے پر چھوٹی بچیوں کو سخت سزا دی جاتی ہے، جس سے سب لڑکیاں ڈر کر رہتی ہیں۔ لڑکیوں نے بتایا کہ ڈسپلن کے نام پر شیلٹر ہوم والے ان کو زبردستی مرچ کھلاتے ہیں۔ خواتین اسٹاف بچیوں کے پرائیوٹ پارٹ یں مرچ ڈال دیتی ہیں۔ کمرہ صاف نہیں کرنے پر،اسٹاف کی بات نہیں ماننے پر اسکیل سے پیٹا جاتا ہے۔ گرمیوں اور سردیوں کی چھٹیوں میں گھر نہیں جانے دیا جاتا ہے۔