دہشت گرد نے حملہ کیا یا دہشت گرد پر حملہ کیا ✍️:پرویز نادر

روس اور یوکرائن کی جنگ عالمی میڈیا اداروں کی شہ سرخیوں کی زینت بنی ہوئی ہیں ہمارے ملک ہندوستان اور مسلم ملت کے مسائل اتنے زیادہ ہیں اور ہم خود نا اتنے بڑے ہوئے ہیں کہ عالمی طاقتوں کی انا اور خود مختاری ان کے آپس میں ٹکراؤ سے دنیا پر مرتب ہوتے ہوئے اثرات پر کوئی تبصرہ کریں۔میں بات ایسی کرنا چاہتا ہوں کہ اس کا تعلق گلی سے لیکر دلی تک اور ہندوستان سے لیکر انسانوں کی معلوم دنیا تک سبھی سے ہے اور اس کے اثرات سے سبھی متاثر ہوتے ہیں۔

ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے بعد مزاحمت اور دفاع کے معنی یکسر بدل کر رہے گئے چاہے وہ عراق کا میدان ہو یا افغانستان کی آزادی ہو یا اپنے مفادات کی خاطر عالمی سامراجی اور اسلام دشمن طاقتوں کا شام کی زمین کی اینٹ سے اینٹ بجانا ہو یا پھر فلسطینیوں کی اسرائیل کے ناجائز قبضے اورجبر و استبداد سے آزادی کی جنگ ہو عالمی منشور اور نام نہاد امن کے ٹھیکیداروں کے نزدیک دہشت گردی کی مخصوص اصطلاح کا استعارہ بنے رہے اور ان کی اس مسلسل استعمال کی جانے والی اصطلاح کی تقلید باقی تیسری دنیا کرتے رہی اور جب بھی کسی مسلم ملک پے کوئی دوسری طاقت حملہ آور ہوئی یہ سمجھا گیا کہ دہشت گردوں پر حملہ ہوا ہے یا کسی مسلم ملک نے کسی دوسرے ملک پر حملہ کیا یہ سمجھا اور سمجھایا گیا کہ دہشت گردوں نے حملہ کیا ہے۔

اب یوکرائن چاہے اپنی خود مختاری اور سالمیت کے دفاع میں لڑرہا ہے یا روس اپنے تحفظ اور خطے میں اپنی چوہدراہٹ قائم و دائم رکھنے کے لیے یوکرائن پر حملے کررہا ہے،کیا کسی میڈیا ادارے اور کسی ملک کے حکمران نے یہ کہا کہ یہ دہشت گردی کی جنگ ہے یا دہشت گردی ہے،یا روس یوکرائن کے بجائے کسی مسلم ملک تاجکستان، قازقستان، بوسنیا یا کسی پڑوسی ملک جو مسلم ہو پر حملہ کرتا تو اس کے ساتھ بھی یہی ہمدردی دکھائی جاتی جو یوکرائن کے ساتھ دکھائی جارہی ہے۔

یورپی ممالک اور تیسری دنیا روس پر دباؤ تو بنا سکتی ہے معاشی اور سفارتی پابندیاں تو لگا سکتی ہیں لیکن روس کو دہشت گرد یا ٹیررسٹ نہیں کہ سکتی،کیوں کہ یہی میعار اور ڈبل اسٹینڈرڈ ہے ان نام نہاد امن کے ٹھیکیداروں کا اور یہی حال ہے ہماری ملکی میڈیائی اداروں کا تعصب اور نفرت پر مبنی اقدامات تو کیے جائیں مسلمانوں کے خلاف!! دہشت گردی کا نشانہ چاہے وہ فسادات کی شکل میں ہو یا انفرادی لنچنگ کی صورت میں ہوں مسلمان بنائیں جائیں اور انہیں پر الزام بھی جہادی اور دہشت گرد کا لگے لیکن قدرت کے اصول کسی اندھیر نگری کا کھیل نہیں ہے بلکہ عدل و انصاف کی بنیادوں پر مبنی ہے کل تک جو مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلنے کے لیے ہتھیاروں کا کاروبار چمکانے میں پیش پیش تھے آج انہیں ہتھیاروں سے آپس میں اپنے ہی لوگوں کی خون کی ارزانی کررہے ہیں

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading