دھولیہ میں بی جے پی کی جیت مشین میں چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ

ثبوت کیساتھ شیوسینا اور دیگر پارٹیوں نے میونسپل کمشنر سے ملاقات کی اور دوبارہ الیکشن کا مطالبہ کیا

دھولیہ(عامر ایوبی) دو روز قبل ہوئے دھولیہ میونسپل کارپوریشن الیکشن کے نتائج سامنے آچکے ہیں- جس میں بی جے پی کو یکطرفہ جیت حاصل ہوئی ہے اور 74 رکنی بلدیہ میں اسے 50 سیٹوں پر فتح حاصل ہوئی ہے- حالانکہ گزشتہ چناؤ میں بی جے پی کی سیٹیں اتنی کم تھیں کہ انہیں انگلیوں پر بآسانی گنا جاسکتا ہے لیکن اس مرتبہ بی جے پی کی حیرت انگیز فتح پر جہاں عام لوگوں نے دانتوں تلے اپنی انگلیاں دبا لی ہیں وہیں پر شکست خورہ افراد نے بھی اس نتیجے کو بی جے پی کا کمال ماننے سے انکار کردیا ہے- کل دھولیہ شیوسینا کی مقامی شاخ کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کا نعقاد کیا اس میں دیگر پارٹیوں کے شکست خوردہ امیدوار بھی شریک ہوئے اور ہزاروں حامیوں کے ساتھ میونسپل کمشنر اور الیکشن کے ریٹرننگ آفیسر سے ملاقات کی اور دوبارہ الیکشن کا مطالبہ کیا ہے- ذرائع ملی تفصیلات کے مطابق اس سلسلہ میں شیوسینا نے ایک مظاہرہ بھی کیا جس میں این سی پی اور کانگریس کے شکست خورہ امیدوار بھی شریک ہوئے اور جلوس کی شکل میں کارپوریشن کمشنر سدھاکر دیشمکھ سے ملاقات کی اور کہا کہ مشین میں بڑے پیمانے پر ہیر پھیر کی گئی ہے بی جے پی کی یکطرفہ کامیابی کا راز یہی ہے-

شیوسینا کے مقامی ذمہ دار اور الیکشن میں بی جے پی کے امیدوار کے ہاتھوں شکست سے دوچار مھیش مستری نے اس موقع پر سسنی خیز انکشاف بھی کرتے ہوئے کہا کہ "مجھے الیکشن سے ایک دن قبل کسی گمنام شخص نے فون پر آفر کیا کہ 25 لاکھ دو میں مشین میں سیٹنگ کرکے تمہیں جتا دونگا لیکن میں نے انکار کردیا” انہوں نے مزید کہا کہ "بی جے پی نے الیکٹرانک انجیئرس کی مدد لی ہے اور چنئی(تامل ناڈو) سے ماہرین کو بلا کر مشین میں موبائیل اور وائی فائی کی مدد سے گڑبڑ کی گئی ہے- اس کے ثبوت ہمارے پاس موجود ہیں” ایڈوکیٹ ساوڑے نے اس موقع پر کمشنر سے سوال کیا کہ” الیکشن میں اس ووٹنگ مشین کا استعمال کیوں نہیں کیا گیا- جس میں رائے دہندہ کو اس کی ووٹ کس کو گئی اسکا ثبوت دکھایا جاتا ہے” یاد رہیکہ الیکشن سے تین چار روز قبل جب سیاسی پارٹی کے نمائندوں کے سامنے مشین کی جانچ کی جارہی تھی اور انکے سامنے علامتی ووٹ دینے کے بعد مشین کو ریسٹ کرکے مہر بند کیا جارہا تھا تب ایک انوکھا واقعہ ہوا شیوسینا کے ایک امیدوار کو دی جانے والی ایک ووٹ اسے نا ملتے ہوئے اس کے بدلے کئی ووٹ بی جے پی کے کھاتے میں گئی اس واقعہ سے بھی احتجاجیوں کے موقف کی تائید ہوتی ہے-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading