دوبچّوں کے باپ مصری کی فیس بُک پربراہ راست خودکشی

قاہرہ :مصر میں وراثت کی تقسیم میں ماموؤں کے ظلم وزیادتی سے تنگ 31 سالہ شخص نے دوزہریلی گولیاں نگل کراپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا ہے۔اس نے فیس بُک پراپنی خودکشی کو لائیواسٹریم کیا ہے۔مصری میڈیا نے اس شخص کی شناخت عمروزاید کے نام سے کی ہے۔

اس نے ایلومینیم فاسفائیڈ کی دو گولیاں نگل لیں۔انھیں عام طورپر’’اناج کی گولیاں‘‘کہاجاتا ہے کیونکہ یہ فصلوں کی حفاظت کے لیے استعمال ہونے والی کیڑے ماردوا ہے۔اس کے کزن نے اس کی جان بچانے کی کوشش میں اسے اسپتال پہنچایا لیکن وہاں پہنچنے کے فوراً بعد اس کی موت واقع ہوگئی۔روزنامہ المصری الیوم نے متوفیٰ کی اہلیہ کے حوالے سے بتایا کہ زاید کاوراثت پر اپنے ماموں کے ساتھ تنازع چل رہا تھ۔وہ وراثت کی تقسیم پر اپنے ساتھ ہونے والے ناانصافی کی وجہ سے پریشان تھا اور ان احساسات کی وجہ سے اس نے اپنی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

زاید کی اہلیہ نے بتایا کہ وراثت کے معاملے پراپنے ماموں کے ساتھ مسلسل بحث وتکرار کی وجہ سے ان کے شوہر کی ذہنی حالت بگڑگئی تھی۔ان کے ماموں اکثران پر حملہ آورہوتے اور ان پر جھوٹے الزامات لگاتے رہتے تھے۔انھوں نے کہا کہ ان ماموؤں کے رویّے نے انھیں انتہائی قدم اٹھانے مجبوردیا مگر ہمارے بچے بسم اللہ اور محمد اس کے مستحق نہیں ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ جن لوگوں نے میرے خاوند کو تکالیف پہنچائی ہیں ،انھیں سزا دی جائے۔زاید کی بیوی نے مزید بتایا کہ ان کے شوہر کے ماموں ان کی والدہ کی وراثت بھی چھین لے گئے تھے۔ان کی خودکشی کے بعد ایک خط ملا ہے۔

اس میں انھوں نے جذباتی طور پر اپنے ساتھ ہونے والے ناانصافی کے احساس کی وضاحت کی ہے۔انھوں نے مبیّنہ طور پرلکھا کہ’’کسی نے میری زندگی ختم نہیں کی بلکہ میں نے اپنی زندگی اس اللہ کے پاس جانے کے لیے خود ختم کی ہےجو (انسانوں)سے زیادہ رحم کرنے والا ہے‘‘۔روزنامہ المصری الیوم کے مطابق عمرو زاید نے اپنے خط میں متعدد افراد کے نام بھی لیے ہیں جنھیں اپنے ساتھ ناانصافی کا موردالزام ٹھہرایا ہے اور لکھا ہے کہ ’’وہ میرے جنازے میں شرکت کریں اور نہ ہی میرے گھر میں داخل ہوں… میں قیامت تک ان کا مخالف ہوں‘‘۔عمرو نے مزیدلکھا کہ ’’میرے مخالفین کے سوا کوئی بھی میری موت کا ذمے دار نہیں ہے۔اللہ انھیں سزا دے گا‘‘۔مبیّنہ طورپر مصر کے مستغیث عام کو خودکشی کے اس واقعہ سے آگاہ کردیا گیا ہے اور توقع ہے کہ زاید کے نامزد کردہ افراد کوپوچھ گچھ کے لیے طلب کیا جائے گا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading