15 جنوری 2024 کی رات تقریبا 1 /بجے حضرت مولانا ریاضؒ صاحب اشاعتی (ناظم مدرسہ معراج العلوم ہنگولی) نے ناندیڑ کے گلوبل ہاسپٹل میں آخری سانس لی، اور داعئ اجل کو لبیک کہا۔
انا للہ وانا الیہ رجعون ۔
مولانا ریاضؒ صاحب کی پیدائش 1977ء تعلقہ حمایت نگرضلع ناندیڑ میں عبدالکریم صاحب کے گھر ہوئی، ابتدائی تعلیم ضلع پریشد ہائی اسکول میں حاصل کی، بعد ازاں علاقۂ مراٹھواڑا کی قدیم دینی درسگاہ دارالعلوم محمدیہ حمایت نگر ضلع ناندیڑ میں داخلہ لیا، اور عالمیت کے ابتدائی چار سال مکمل کرکے جامعہ اشاعت العلوم اکل کوا تشریف لے گئے، اور وہاں رہتے ہوۓ عالمیت کا نصاب مکمل کیا، اس دوران وہ جامعہ کے شیخ الحدیث اور بزرگ شخصیت علامہ سلیمان صاحب شمسیؒ، کی خدمت میں رہے، اور انکے فیض صحبت سے مستفید ہوۓ۔
1999ء میں جامعہ سے سند فراغت حاصل کرنے کے بعد مدرسہ معراج العلوم ہنگولی میں خدمات انجام دیں ۔ اور 2008ء میں حمایت نگر تشریف لے آئے اور دارالعلوم محمدیہ میں تقرر ہوا۔
طلبۂ دارالعلوم اس وقت شہر کی قدیم عمارت میں رہ کر تعلیم حاصل کرتے تھے، لیکن حضرت مولانا ریاضؒ صاحب کی مسلسل کوشش، مدرسہ کے ارباب حل و عقد کے حکم اور اساتذہ کے تعاون سے شہر کے باہر موجود سات ایکر اراضی ( جو اب بارہ ایکر سے زائد پر مشتمل ہے ) پر تعمیری کام شروع کیا اور ان کی شب و روز کی محنتوں سے مدرسہ کی عمارت کا ابتدائی تعمیری ڈھانچہ تیار ہوا، اور انہیں کی جرأت و سلیقہ مندی سے خار دار زمین کی چمن بندی ہوئی۔
2013ء میں مولانا کو ناکردہ گناہ کی سزا میں جیل جانا پڑا، غیروں کی کرم فرمائیوں اور اپنوں کی بے وفائیوں کی وجہ سے چار سال تک پس دیوار زنداں رہے، لیکن جیل میں بھی انکا سلوک قیدیوں کے ساتھ بہت اچھا رہا، وہاں پر دینی تعلیم اور نماز کی امامت آپ ہی کے ذمہ تھی۔چار سال تک کیس کو سرد خانے میں رکھا گیا، بعد ازاں ایک ہمدرد و انصاف پسند جج (نام غالباً علی خان) نے کیس کی شنوائی کی اور مولانا باعزت بری ہوۓ۔
2017 میں جیل سے رہائی کے بعد پھر سے مدرسہ معراج العلوم ہنگولی میں بحیثیت ناظم مقرر ہوۓ، اور تادم حیات وہی پر خدمات انجام دیتے رہے، گذشتہ کل بکار مدرسہ موٹر سائیکل پر سوار ہوکر نکلے تھے، اور دوران سفر بسمت کے قریب حادثہ پیش آیا، اور وہی حادثہ موت کی وجہ بن گیا۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
مولانا بہت ہی خوش مزاج، خوش پوش،خوش گفتار،مہمان نواز، باوقار و باحوصلہ شخصیت کے مالک تھے، جرأت مندی ایسی کہ کسی سے مرعوب نہیں ہوتے لیکن اپنے اساتذہ اور بڑوں کے سامنے نہایت ادب و احترام سے پیش آتے تھے، اور اگر اساتذہ میں سے کوئی ناراض ہوجاۓ تو فکر مند ہوجاتے، اور معافی مانگنے میں دیر نہیں کرتے تھے ۔چھوٹوں کے ساتھ مشفقانہ برتاؤ تھا۔
غرض آج ہم ایک تجربہ کار، فکر مند ، فعال و متحرک اور حوصلہ مند عالم دین سے محروم ہوگئے۔
رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی
تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی
پسماندگان میں زوجہ، دولڑکیاں اور ایک لڑکے کے علاوہ والدہ، چھ بھائی اور دو بہنیں شامل ہے۔
اللہ انہیں صبر جمیل عطا فرمائے اور مولانا کو جنت میں اعلی درجات سے نوازے۔
از: محمد اکرم خان قاسمی حمایت نگر