
ممبئی: خواجہ یونس قتل معاملے میں ملوث چار پولس والوں کو ملازمت پر لینے کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ میں داخل توہین عدالت کی پٹیشن پر آج ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اے اے سید اور جسٹس این آر بورکر کے روبرو سماعت عمل میں آئی جس کے دوران ممبئی پولس کمشنر کی جانب سے جواب داخل نہیں کرنے پر عدالت نے انہیں دو ہفتہ کے اندر جواب داخل کرنے کا حکم دیتے ہوئے عرضی گذار (خواجہ یونس کی والدہ آسیہ بیگم) کو اگلی سماعت سے قبل جواب کی نقول مہیا کرانے کا حکم دیا۔
ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ نے اس معاملے میں جمعیۃ علماء کی جانب سے پیش ہوئے سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی کو حکم دیا کہ ممبئی پولس کمشنر کے جواب کی روشنی میں وہ دو ہفتہ کے بعد بحث کریں اور اپنی سماعت ملتوی کردی۔ایڈوکیٹ مہیر دیسائی کی گذارش پر عدالت نے ممبئی پولس کمشنر کو حکم دیا کہ وہ اگلی سماعت سے قبل ہی مدعی کے وکیل کو جواب(رپلائے) کی نقول فراہم کریں تاکہ وہ بحث کے لیئے تیاری کرسکیں۔
خواجہ یونس قتل معاملے میں ملوث اسسٹنٹ پولس انسپکٹر سچن وازے، پولس کانسٹبل راجندر تیوار، سنیل دیسائی اور راجا را م نکم کی ملازمت پر دوبارہ بحالی کو چیلنج کیا گیا ہے۔