خبردار! ناندیڑضلع کے 1100 واٹس ایپ گروپس پر پولس کی کڑی نظر‘ کہیں آپکا گروپ بھی تو اس میں شامل نہیں؟

ناندیڑ: 5مارچ (ورق تازہ نیوز) آئندہ ماہ ہونے والے انتخابات لوک سبھا انتخابات اور اس کے علاوہ مختلف تہواروںپر کے مدنظر پولیس انتظامیہ کافی چوکس ہو گیا ہے اس لئے ناندیڑ ضلع کے تقریبا گیارہ سو سے زائد واٹس اےپ گروپ پولیس کی سخت نظر رہے گی ۔

ان گروپس کے ذریعے سماج میں کشیدگی پھیلانے والے پیغامات ارسال کیے جاتے ہیں تو ان کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا اشارہ ضلع ایس پی سنجے جادھو نے دیا ہے۔ لوک سبھا انتخابات کیلئے مثالی انتخابی ضابطہ اخلاق کا نفاذ چند روز میں عمل میں آئے گا اس کے علاوہ آئندہ دنوں میں ہونے والے مختلف تہواروں میں بھی کوئی رخنہ اندازی یا ماحول کو خراب کرنے جیسے حالات پیدا نہ ہو اس لیے پولیس اپنے کام میں مصروف ہو گئی ہے ۔حالیہ دنوں ضلع کے تمام سینئر پولیس افسران کا اجلاس منعقد کیا گیا تھا جس میں لوک سبھا انتخابات کے دوران متنازعہ بیانات‘ سماج میں کشیدگی کا باعث بننے والے پیغامات اور دیگر ایسے پیغامات جس کی وجہ سے امن وامان کوخطرہ لاحق ہے اےسے حالات پر خصوصی نظر رکھی جائے گی۔

سوشل میڈیا کے دور میں واٹس ایپ پر اس طرح کے بیانات اور پیغامات ارسال کئے جاتے ہیں ۔ اس لئے پولیس واٹس ایپ پر خصوصی نظر رکھی ہوئی ہے۔ پولیس نے ناندیڑ ضلع کے گیارہ سو ایسے گروپس پر نظر رکھے گی جو اس طرح کے پیغامات اور بیانات کو گروپس میں شئیر کرتے ہیں جن پر سائبر کی مدد سے نظر رکھی جا رہی ہے۔ اگر کوئی متنازع بیان ‘ پیغام کو لائک یا فارورڈ کرتا ہے اسکے خلاف سخت کاروائی ہوگی۔ اس کے علاوہ ریکارڈ پر موجود مجرمین پر نظر رکھنے کے لئے بھی خصوصی دتشکیل دیا گیا ہے۔

جن افراد پر ایک سے زائد جرم داخل ہو یا وہ متنازعہ جرائم میں ملوث ہے ایسے تقریبا ڈیڑھ ہزار سے زائد مجرموں کی فہرست تیار کی گئی ہے اور اُن پربھی کڑی نظر رکھی جائے گی۔ اس کے علاوہ عادی مجرمین کے خلاف ضلع بدر کی کاروائی کیلئے تجویز تیار کی گئی ہے جسے ضلع انتظامیہ کے پاس روانہ کردیا گیا ہے ۔

چند ماہ قبل پندرہ ملزمان کوضلع بدر کیا گیا تھا ۔پولیس کی شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ انتخابات اور دیگر تہواروں کے دنوں میں سوشل میڈیا پر قابل اعتراض پوسٹ یا پیغام کو شیئر نہ کریں جس سے ماحول خراب ہو سکتا ہے۔ ورنہ انکے خلاف سخت کاروائی ہوگی ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading