العربیہ نیوز کے نمائندگان کے مطابق آج جمعرات کے روز صبح سے اب تک خان یونس پر اسرائیلی حملوں میں 24 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں غزہ کی پٹی کے دیگر مختلف علاقوں پر اسرائیلی بم باری سے مرنے والوں کی تعداد 81 ہے۔
العربیہ کے نمائندے نے بتایا کہ اسرائیل نے غزہ شہر کے جنوبی حصے میں رہائشی عمارتوں کو تباہ کر دیا اور جنوبی شہر رفح کے شمال مشرق میں واقع علاقے میراج پر شدید فضائی حملے کیے۔ اس کے علاوہ فرح شہر کے متفرق علاقوں کو شدید گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا۔
غزہ کی پٹی کی تقسیم
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے غزہ کی پٹی کو تقسیم کرنے اور موراج راہ داری پر کنٹرول حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نیتن یاہو کے مطابق یہ دوسری ‘فلاڈلفیا راہ داری’ ہو گی۔
نیتن یاہو نے ایک بیان میں انکشاف کیا کہ اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی کو "ٹکڑوں میں تقسیم” کر رہی ہے اور بتدریج دباؤ بڑھا رہی ہے تا کہ (حماس تنظیم) ہمارے یرغمالیوں کو واپس کر دے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل وسیع اراضی پر کنٹرول حاصل کر رہا ہے، حماس کے مسلح عناصر کو نشانہ بنا رہا ہے اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر رہا ہے۔
فائر بندی معاہدہ ختم ہو گیا
اسرائیل نے گذشتہ ماہ 18 مارچ کو حماس کے ساتھ فائر بندی کا معاہدہ توڑ دیا تھا۔ اس نے غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں پر اچانک فضائی حملے کیے جن میں سیکڑوں فلسطینی جاں بحق ہو گئے.
اسرائیل نے حماس پر الزام عائد کیا کہ وہ کمزور جنگ بندی کی راہ میں رکاوٹ بن گئی کیوں اس نے معاہدے کے (جو 3 مرحلوں پر مشتمل ہے) پہلے مرحلے میں توسیع سے … اور تقریبا نصف قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کر دیا جو ابھی تک غزہ کی پٹی میں یرغمال ہیں۔
ادھر حماس باور کرا چکی ہے کہ وہ معاہدوں کی شقوں کی پاسداری کر رہی ہے۔ تنظیم نے معاہدے کے دوسرے مرحلے میں منتقل ہونے کا مطالبہ کیا۔ اس مرحلے میں غزہ سے اسرائیلی فوج کا انخلا اور انسانی امداد کی بڑی کھیپ کے داخلے کی اجازت مذکور ہے۔