حیدرآباد6جون(یواین آئی)تلنگانہ ہائی کورٹ نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن(جی ایچ ایم سی)حدود کو چھوڑ کر ریاست بھر میں دسویں جماعت کے امتحانات منعقد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے حکومت کے موقف کو جانتے کے بعد کہا کہ حیدرآباد شہر میں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے، اس لئے گریٹر حیدرآباد کے علاقہ میں امتحانات ملتوی کردیئے جائیں اور سپلیمنٹری امتحانات میں انھیں مواقع فراہم کرتے ہوئے کامیاب ہونے والے طلبہ کو ریگولر طور پر کامیابی کا صداقت نامہ دیا جائے۔اس طرح 8 جون سے حیدرآباد کو چھوڑ کر ریاست بھر میں دسویں جماعت کے امتحانات کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
قبل ازیں آج صبح دسویں جماعت کے امتحانات کے معاملہ کی سماعت آج تلنگانہ ہائی کورٹ میں ہوئی۔عرضی گذارکے وکیل نے کہا کہ ریاست میں کورونا وائرس کے معاملات میں اضافہ ہورہا ہے ایسے میں امتحانات منعقد کرنے سے طلبہ کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔ پنجاب حکومت نے امتحانات کے بغیر تمام طلبہ کو گریڈنگ دے دیا ہے جس پر عدالت نے حکومت سے دریافت کیا کہ آیا وہ امتحانات کے بغیر تمام طلبہ کو کامیاب قرار دیتے ہوئے انہیں گریڈنگ دے سکتی ہے؟
عدالت نے حکومت سے یہ بھی دریافت کیا کہ حیدرآباد اور رنگاریڈی ضلع کو چھوڑ کر ریاست بھر میں امتحانات منعقد کرنے حکومت تیار ہے؟ جس کا جواب دیتے ہوئے ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت سے کہا کہ وہ حکومت سے مشاورت کے بعد کچھ ہی دیر میں اس وضاحت کریں گے جس پر عدالت نے اس معاملہ کی آئندہ سماعت شام 4 بجے تک کے لئے ملتوی کی تھی تاہم جب 4بجے سماعت ہوئی توسرکاری وکیل نے عدالت سے خواہش کی کہ وہ گریٹرحیدرآباد میونسپل کارپوریشن(جی ایچ ایم سی)اور ضلع رنگاریڈی میں احتیاطی اقدام کرے گی۔سرکاری وکیل نے عدالت سے خواہش کی کہ امتحانات منعقد کرنے کی اجازت دی جائے جس پر عدالت نے سوال کیا کہ موجودہ صورتحال میں اگر امتحانات منعقدکئے جاتے ہیں اور کسی بھی طالب علم کی موت ہوتی ہے تو اس کاکون ذمہ دارہوگا؟عدالت نے کہاکہ جی ایچ ایم سی حدود میں کورونا کی شدت زیادہ ہے۔عدالت نے ریمارک کیاکہ امتحانات سے بڑھ کر طلبہ کی زندگی ہے۔ عدالت نے حیدرآباد کو چھوڑ کر ریاست بھر میں دسویں کے امتحانات منعقد کرنے کی ہدایت دی۔