حیدرآباد میں احتجاجی جلسہ: جامعہ کی طالبات لدیدا فرزانہ اور عائشہ رینا مرکز توجہ

حیدرآباد: شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف ہفتہ کی شب کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے ہیڈ کوارٹرس دارالسلام حیدرآباد میں بڑے پیمانہ پر جلسہ کا اہتمام کیا گیا جس سے مختلف تنظیموں کے ذمہ داروں نے خطاب کیا۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کی دو طالبات لدیدا فرزانہ اور عائشہ رینا اس جلسہ کی مرکز توجہ تھیں۔ان دونوں نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مودی حکومت پر شدید نکتہ چینی کی۔ عائشہ نے کہا کہ سنگھ پریوار یہ سوچ رہا ہے کہ سی اے اے کی مخالفت کرنے والے پیچھے ہٹ جائیں گے، ہم ان کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم آگے بڑھ رہے ہیں اور بڑھتے رہیں گے۔

فرزانہ نے کہا کہ جہدوجہد کاآغاز ہوا ہے۔ہم سی اے اے کی تنسیخ تک خاموش نہیں رہیں گے۔ان دونوں نے دہلی پولیس سے مطالبہ کیا کہ چندرشیکھرآزاد کو رہا کیاجائے جن کو دہلی پولیس نے جمعہ کی شب جامعہ ملیہ اسلامیہ کی جامع مسجد کمپاونڈ سے گرفتار کیا ہے۔ان دونوں طالبات نے مطالبہ کیا کہ سی اے اے کے خلاف دہلی میں احتجاج کے دوران گرفتار افراد کو رہا کیاجائے۔ان دونوں کی تقاریر کے موقع پر ہجوم بشمول خواتین نے ان کی کافی ستائش کی اور انقلاب زندہ باد کے نعرے لگائے۔

آسام میں غیر قانونی تارکین وطن قرار دیئے گئے افراد کے معاملات لڑنے میں مدد کرنے والے آسام کی انسانی حقوق کے جہدکار امن ودود بھی اس موقع پر موجود تھے۔انہوں نے کہاکہ کئی خاندان این آر سی کی نوٹس ملنے کے بعد کئی مسائل کا سامنا کررہے ہیں اور انہوں نے مقدمات لڑنے کیلئے اپنی جائیدادوں کو رہن تک رکھ دیا ہے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading