جمعیۃ علما ہند کے اجلاس منتظمہ میں مدارس اسلامیہ کے ذمے داروں کو مشورہ، ’ہائر سکینڈری تک کی تعلیم کو یقینی بنائیں‘
نئی دہلی۔ ۱۳؍ستمبر: جمعیۃ علماء ہند کی مرکزی مجلس منتظمہ کا اہم اجلا س ۱۲؍۱۳؍ستمبر کو جمعیۃ کے صدر دفتر میں مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری صدر جمعیۃ علماء ہند کے زیر صدارت منعقدہوا، اجلا س میں ملک بھر سے جمعیۃ علماء ہند کے تقریبا دو ہزار اراکین ومشاہیر نے شرکت کی۔اس موقع پر قضیہ کشمیر ، مدارس دیینہ میں بنیادی عصری علوم ،دستور جمعیۃ میں ترمیم ،جمعیۃ سدبھائونا منچ،این آرسی اور مرکزی سرکار کی طرف سے ملکی سطح پر شہریوں کے رجسٹریشن جیسے اہم مسائل پر تجاویز منظو ر کی گئیں ۔ جمعیۃ علماء ہند نے مدارس ا سلامیہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے اداروں میں ہائر سکنڈری تک کی تعلیم کو یقینی بنائیں ۔
تجویز میں کہا گیا ہے کہ موجودہ زمانے میں دعوی فریضہ کی انجام دہی ، ملی وسماجی معاملات کی صحیح رہ نمائی او رملکی حالات، نیز درپیش قوانین کا تقاضا ہے کہ مدارس اسلامیہ ، مکاتب دینیہ کے طلباء بنیادی عصری علوم (مثلاسائنس ، جغرافیہ ، حساب ، ہندی اور انگریزی زبان وغیرہ سے آراستہ ہوں، بلکہ اچھی طرح واقف ہوںتاکہ فضلائے مدارس عصری تقاضوںسے ہم آہنگ ہو کر اپنی دینی وشرعی ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی انجام دے سکیں لہذا ارباب مدارس ومکاتب اپنے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی لائے بغیر اپنے مکاتب میں پرائمری سطح سے اوپر مڈل اسکول تک کی تعلیم فراہم کریں اور مدارس و جامعات کے نظام تعلیم میں ہائر سکنڈری تک کی تعلیم کو یقینی بنائیں ۔ دیر شام تک جاری جاری رہنے والے مجلس منتظمہ کے اجلاس میںمذہبی شدت پسندی کی مذمت پر بھی ایک تجویز منظور ہوئی جس میں مذہبی شدت پسندی اور ایک خاص مزعومہ ثقافت کو زبردستی مسلط کرنے کی کوشش اور نفرت اور تحقیر آمیز کوششوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا تشدد کو روکنے کے لیے سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں موثر قانون بنا کر اس پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ نیز اکثریت و اقلیت کے درمیان اعتماد کی فضا بحال کی جائے؛ ورنہ اس کے نتائج ملک و قوم سبھی کے لیے سخت نقصان دہ ہوں گے۔
جمعیۃ علماء ہند نے ایک دوسری تجویز میں یو اے پی ایکٹ کی موجودہ ترمیمات پر بھی فکر وتشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس قانون میں جس طرح ایجنسیوں کو کسی بھی فرد کو مطلق طور سے دہشت گرد قرار دینے کا اختیار دیا گیا ہے ،و ہ شخصی آزادی پر شدید حملہ ہے اور اس بات کا قوی خدشہ ہے کہ اسے سیاسی اور مذہبی عداوت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ان تمام تجاویز کی منظوری کے بعد صدر جمعیۃ علماء ہند مولاناقاری سید محمد عثمان منصورپوری نے صدارتی خطاب میں کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے بلکہ ایک دینی جماعت ہے ۔ جمعیۃ علماء ہند جو بھی خدمت انجام دیتی ہے وہ سب دین کا حصہ ہے ، یہ لوگوں کی غلط فہمی ہے کہ وہ جمعیۃ کے کاموں کو محض سیاسی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ انھوں نے ایمان کی عظمت و اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ اپنی اور نسل کے ایمان کی حفاظت ہر مسلمان کی اولین ذمہ دا ری ہے ۔
جمعیۃ علماء ہند کے جنرل ؎ سکریٹری مولانا محمود مدنی نے دو ٹوک ا نداز میںکہا کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم کرنے اور برادران وطن کے ساتھ امن وامان کی کوشش اور شجرکاری مہم کسی مصلحت یا کسی سے ڈر کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ سب ہم نے احساس ذمہ داری کے تحت کیا ہے تا کہ ان فرقہ پرستوں کے منفی پروپیگنڈا کا جواب دیا جاسکے جو مسلمانوں کے سلسلے میں برادران وطن کے دلوں میں نفرت کی آبیاری کررہے ہیں۔انھوں نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ ہمت وحوصلہ اور بہادری کے ساتھ حالات کا مقابلہ کریںاور جب جان پر آپڑے تو اپنی جان کے تحفظ کے لیے بھر پوروفاع کریں ۔
اس سے قبل گزشہ روز جمعیۃ علماء ہند کی جنرل باڈی نے قضیہ کشمیر سے متعلق موجودہ حالات کی روشنی میں ایک اہم تجویز منظور کی یہ تجویز جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے پیش کی ، تجویز میں اپنے دیرینہ موقف کا اعادہ کرتے ہوئے واضح طور سے کہا گیا کہ کشمیر وطن عزیز ہندستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور کشمیر میں بسنے والے سبھی لوگ ہمارے ہم وطن ہندستانی ہیں، جمعیۃ علماء ہند ہمیشہ متحدہ ہندستان کی حامی رہی ہے اور ملک کی سلامتی اور وحدت اس کے نزدیک بہت اہمیت رکھتی ہے ۔ اس لیے وہ کسی بھی علیحدگی پسند تحریک کی ہرگز تائید نہیں کرسکتی ، بلکہ اس طرح کی تحریکات کو نہ صرف ہندستان بلکہ خود کشمیریوں کے لیے نقصان دہ سمجھتی ہے ۔اسی کے ساتھ ہم کشمیری عوام کی آرزئوں ، خودداری اور تہذیبی شناخت کے تقاضوں سے ہرگز بے پروا نہیں ہیں ، ان کے جمہوری اور انسانی حقوق کی پاسبانی ہمارا قومی اور انسانی فریضہ ہے ، ہماری نظر میں کشمیر ی عوام کی فلاح و بہبو د ہندستان کے ساتھ جڑی ہوئی ہے ۔ تجویز میں زور دیاگیا کہ پڑوسی ملک اور دشمن طاقتیں کشمیر کو برباد کرنے کے درپے ہیں۔ مظلوم اور مقہور کشمیری عوام دو چکیوں کے پاٹ کے درمیان بری طرح پس رہے ہیں ، دشمن نے ہندستان کے خلاف کشمیر کو محاذ بنار کھا ہے جو مظلوموں کی فریاد رسی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ، کشمیری عوام کی خیر خواہی اسی میں ہے کہ اس صورت حال کو تبدیل کیا جائے جس کی وجہ سے صرف کشمیر ہی نہیںبلکہ پورے علاقے کا امن وامان خطرے میں ہے ، لہذا اس خطے میں امن امان کا قیام اور ایٹمی طاقتوں کے ٹکرائو اور بے پناہ جانی ومالی نقصان سے تحفظ کے لیے فوری طور پر پرامن اقدامات کرنا وقت کی آواز ہے۔
نیز موجودہ حالات کے تناظر میں جمعیۃ علماء حکومت ہند سے اپیل کرتی ہے کہ انسانی حقوق کی پاسداری کرتے ہوئے کشمیری عوام کی جان ومال کی حفاظت میں کوئی دریغ نہ کرے اور کشمیریوں کے دل جیت کر حالات کو معمول پر لانے کے لیے دستور کے مطابق ہر ممکن اقدامات کرے ۔میٹنگ میں این آرسی کے متعلق تجویز میں آسام میں این آرسی کی حتمی فہرست شائع ہونے پر قلبی اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے زیر نگرانی اس عمل نے ان شرپسند عناصر کا ناطقہ بند کردیا ہے جو آسا م میں بنگلہ دیشی کے نام پر مسلم اقلیت کو ہراساں کرتے تھے۔ امید ہے کہ آسام میں لمبے عرصے سے جاری دراندازی کا قضیہ حل ہو گا اور لوگوں کو غیر ملکی ہونے کے نام پر ہراساں کرنے والے عناصر سے بھی نجات ملے گی ۔