کانگریس کی سینئر لیڈر پرینکا گاندھی واڈرا نے جامعہ تشدد پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور دہلی پولیس پر سچ نہ بولنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ قصورواروں کےخلاف حکومت کو کارروائی کرنی چاہئے۔
محترمہ واڈرا نے ٹویٹ کے ساتھ ایک ویڈیو شیئرکرتےہوئے کہا کہ پولیس اہلکار جامعہ کی لائبریری میں طلبہ کو پیٹ رہے ہیں جبکہ دہلی پولیس اور مسٹر شاہ کا کہنا ہے کہ پولیس نے کسی بھ طالب علم کو نہیں پیٹا ہے۔
देखिए कैसे दिल्ली पुलिस पढ़ने वाले छात्रों को अंधाधुंध पीट रही है। एक लड़का किताब दिखा रहा है लेकिन पुलिस वाला लाठियां चलाए जा रहा है।
गृह मंत्री और दिल्ली पुलिस के अधिकारियों ने झूठ बोला कि उन्होंने लाइब्रेरी में घुस कर किसी को नहीं पीटा।..1/2 pic.twitter.com/vusHAGyWLh
— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) February 16, 2020
کانگریس لیڈر نے کہا،’’دیکھئے کیسے دہلی پولیس پڑھنے والے طلبہ کو اندھادھند پیٹ رہی ہے۔ایک لڑکا کتاب دکھارہا ہے لیکن پولیس والا لاٹھیاں چلائےجارہا ہے۔وزیر داخلہ اور دہلی پولیس کے افسروں نے جھوٹ بولا کہ انہوں نے لائبریری میں گھس کر کسی کو نہیں پیٹا۔اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد جامعہ میں ہوئے تشدد کے سلسلے میں اگر کسی پر ایکشن نہیں لیا جاتا تو حکومت کی نیت پوری طرح سے ملک کے سامنے آجائےگی۔‘‘
دوسری جانب دہلی پولیس نے بھی ایک ویڈیو جاری کیا ہے جس میں طلباءپتھر ہاتھ میں لئےہوئے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ویڈیو پولیس کارروائی کو جائز ٹھہرا سکتی ہے ۔ متعدد صحافیوں نے اس ویڈیو جنگ پر سوال کھڑے کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ پولیس کی کارروائی کیا بدلہ کی کارروائی تھی ۔
Video Vs video: Delhi cops claim new video shows ‘rioters’ entering Jamia library before police entered. My qs: If police claim they acted in self defence, was their brutal action in library ‘self defence’ or ‘revenge’? crucially, what is status of invgn? https://t.co/TZLP5cwCql
— Rajdeep Sardesai (@sardesairajdeep) February 16, 2020
اس دوران سماجوادی پارٹی نے بھی ایک ٹویٹ کرکے اس معاملے میں عدالت کی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔پارٹی نے کہا،’’دہلی پولیس کا بھیانک چہرہ بے نقاب !وزیر داخلہ کے حکم پر جامعہ لائبریری میں پڑھائی کرنے والے بےقصور طلبہ پر پولیس نے وحشیانہ کارروائی کرتے ہوئے لاٹھی چار کی سماجوادی پارٹی اس کی مذمت کرتی ہے۔عدالت سے نوٹس لے کر کارروائی کی اپیل۔‘‘
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو