امریکی محکمۂ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان جنگ بندی کے نفاذ پر متفق ہو گئے ہیں۔
محکمۂ خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دونوں ممالک میں جنگ بندی کا یہ معاہدہ دیگر شرائط کے ساتھ ساتھ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کے ’مکمل خاتمے‘ سے مشروط ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے: ’تمام ممالک نے اس بات کی توثیق کی کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان تعلقات کا مستقبل دونوں خود مختار حکومتوں کو ہی طے کرنا چاہیے۔ انھوں نے کسی بھی ریاست یا غیر ریاستی عنصر کی جانب سے لبنان کے مستقبل کو یرغمال بنانے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کر دیا۔‘
معاہدے کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ دریائے لیطانی سے لے کر سرحد تک جنوبی لبنان کا جو علاقہ اسرائیل کے کنٹرول میں ہے، وہاں سے ’حزب اللہ کے تمام اہلکار‘ نکل جائیں گے۔
بیان میں کہا گیا کہ ’امریکہ ایسے زونز بنانے میں مدد کرے گا، جہاں لبنانی مسلح افواج علاقے پر مکمل کنٹرول سنبھالیں گی اور تمام غیر ریاستی عناصر کو باہر رکھا جائے گا۔‘
جنگ بندی کا یہ معاہدہ پیر کے روز طے پانے والی ایک جزوی جنگ بندی کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے بارے میں لبنان کا کہنا تھا کہ اس کے تحت اسرائیل بیروت پر بمباری سے گریز کرے گا اور بدلے میں حزب اللہ اسرائیل پر حملے نہیں کرے گی۔
دونوں ممالک 22 جون کو دوبارہ ملاقات کریں گے تاکہ مزید بات چیت کی جا سکے ’اور ایک جامع معاہدے تک پہنچا جا سکے۔‘حزب اللہ نے تا حال اس اعلان پر عوامی سطح پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔