اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی میں اضافے اور وسیع جنگ کے خطرے کے پیش نظر اسرائیلی فوج نے اپنی تیاریاں مزید بڑھا دی ہیں۔اسرائیلی فوج کے ایک سینیر سکیورٹی ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ 50,000 اضافی اسرائیلی بری افواج کے سپاہی شمالی کمان کے تحت لڑنے کو تیار ہیں۔
لبنان اور شام کے محاذ
ذریعے نے ’الحدث‘ چینل کو دیے گئے ایک خصوصی بیان میں مزید کہا کہ اسرائیلی فوج لبنان اور شام کے محاذوں پر شمالی کمان لڑنے کے لیے پوری طرح تیار ہو چکی ہے۔ذریعے نے کہا کہ جنرل اسٹاف اپنی تمام بحری، فضائی اور زمینی افواج کے ساتھ تیار ہے۔ وہ کئی اطراف سے زمینی آپریشن کے لیے الرٹ ہے۔
ذریعے نے کہا کہ لبنان اور شام کے محاذوں پر مشکل لڑائی کے دن آنے والے ہیں۔ تاہم اس نے حزب اللہ کے ساتھ جنگ چھڑنے کی صورت میں شامی فوج کی مداخلت کو مسترد کردیا۔ذرائع نے تصدیق کی کہ پاسداران انقلاب سے وابستہ گروپوں کے ہزاروں ارکان کی شامی سرزمین پر نشاندہی کی گئی ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز اعلان کیا تھا کہ اس کی فضائیہ نے لبنان کے وسطی علاقے جنتا میں حزب اللہ کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان ’اویچائی ادرعی‘ نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں مزید کہا کہ ان کے طیاروں نے شام اور لبنان کی سرحد سے متصل علاقے میں حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے ایک مرکز اور فضائی دفاعی نظام پر بمباری کی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے حملوں میں حزب اللہ کے فوجی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، جہاں سے اس نے شامی گولان کی طرف میزائل داغے تھے۔
وسیع جنگ
قابل ذکر ہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد سے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ روز کا معمول ہے۔اگرچہ لبنان کی جنوبی سرحد پر لڑائی اب بھی نسبتاً قابومیں ہے، لیکن گذشتہ چند ہفتوں میں حملوں میں اضافے سے یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ یہ ایک مکمل جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔