حالات حاضرہ پر ایک نظر

از: صدیق احمد جوگواڑ نوساری گجرات

متعلم: جامعہ قاسمیہ شاہی مراداباد. درجہ: تکمیل افتاء. واٹساپ نمبر 8000109710

آج کے اس پر فتن دور میں جہاں لوگ مفاد پرستی خود غرضی اور عیاشی میں جینے کے ساتھ ساتھ مال و دولت کے بہاؤ میں بہتے ہوئے دین سے کوسوں دور جارہے ہیں. اور اپنی نفسانی خواہشات کے شکم کو چاک کرنے کے بجائے اسکا پیٹ بھرنے کی کوشش کر رہے ہیں. حالانکہ حدیث نبوی سے یہ بات معلوم ہوچکی ہے کہ اسکا پیٹ قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے. جسکا نتیجہ یہ ہورہا ہیکہ ظلم وتشدد ہتک عزت عذاب اور مصائب و آلام ذلت وشکستگی ہمارا مقدر بن چکی ہے. اور حق بات ماننا تو در کنار سننا بھی گوارا نہیں کرتے. تاہم کچھ لوگوں نے تو اسی کو اصل ٹھکانہ سمجھ رکھاہے. غیروں میں اس طرح گھل مل جاتے ہیں کہ امتیاز مشکل ہوجاتا ہے. علاوہ ازیں بعض لوگ تو ارتداد کے دہانے پر کھڑے ہوچکے ہیں اب گرے تب گرے.

آپ دنیا پر ایک نظر ڈالیں گے تو پتہ چلے گا کہ مسلمان اسوقت عجیب وغریب حالات سے دوچار ہیں ایسا لگتا ہیکہ وہ زمانہ آچکا ہے جسکے متعلق حضور ا قدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ صبح مؤمن ہونے کی حالت میں گھر سے نکلے گا اور گھر واپس آئے گا تو ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہو گا. حالات کچھ ایسے ہی ہیں آخر ایسا کیوں؟ ہم نے فرائض کی ادائیگی کو چھوڑ کرآئے دن گناہوں کے سمندروں میں غوطہ لگاتے جارہے ہیں. لیکن بے حسی کا عالم یہ ہیکہ اب بھی ذرہ برابر فکر واحساس نہیں. کیا ہم میں اور غیروں میں نام کا ہی فرق باقی رہ گیا ؟ یاد رکھیں اسکا اعتبار دنیا کے اندر تو ہوسکتا ہے لیکن آخرت میں کوئ اعتبار نہیں ہو گا جبکہ ایمان بھی رخصت ہو جائے .ہم اپنے قائدین اور علماء کی قدر کرنے کے بجائے انکی ٹوہ میں لگ کر انکی عزتوں کو پامال کرنے میں لگ گئے ہیں. یاد رہے اس سے انکا نقصان تو نہیں ہو گا لیکن یہ ہمارے لیے اور ہماری اولاد کے مستقبل کے لیے انتہائ خطرہ کا باعث ہوگا. کیونکہ بچوں کے مستقبل کو سنوارنےمیں ایک کردار استاذ کا بھی ہو تا ہے جبکہ وہ حقیقی معنی میں استاذ ہو. بچوں کی دینی تربیت کر کے اسلامی ذہن سازی کر ے خود بھی عامل ہو شریعت پر اور انکو بھی عملی جامہ پہنا کر اور سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ اور تابعین کے واقعات اور سلف صالحین کے سوانح سنا کر شوق ورغبت پیدا کرے. یہی وجہ ہیکہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو معلم بنا کر بھیجا گیا اور آ پ نے اپنی ذمہ داری کو امانت داری کے ساتھ پورا کیا جسکے نتیجے میں صحابہ تابعین تبع تابعن آئمئہ مجتھدین سلف صالحین کے ذریعے یہ دین اسلام ہم تک پہنچا اب ہماری ذمہ داری ہیکہ اسکو بحفاظت اپنی آنے والی نسلوں تک پہنچائے اسکے لیے فکر مند ہوں. لیکن معاملہ اسکے برعکس نظرآرہا ہے ہم ناقدری ناشکری پر اترے ہوئے ہیں.
ذرا ہم اپنا محاسبہ کریں قوم کاجائزہ لیں اور سوچیں ہم کہاں تھے اور اب کہاں پہنچ گئیں ؟
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ ہر گز گمراہ نہیں ہو سکتے جب تک کہ قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھامے رہو.
حضرت مولنا محمود حسن صاحب جب مالٹا کی جیل میں قید ہوئے تو انھوں نے غور وفکر کیا کہ مسلمانوں کی تنزلی کا سبب کیاہے؟ پتہ چلا قرآن کی تلاوت کو چھوڑنا اورآپسی اختلافات.
حضرت مولنا ابو الحسن علی ندوی نے فرمایا کہ اگر قوم کو پنج وقتہ نمازی نہیں بلکہ تھجد گزار بھی بنا دیا جائے لیکن اسکے سیاسی شعور کو بیدار نہ کیا جائے اور ملک کے احوال وکوائف سے انکو واقف نہ کیاجائے تو ممکن ہے اس ملک میں آئندہ تھجد تو دور کی بات پانچ وقتوں کی نماز پر بھی پابندی عائد ہوجائے.
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ امت کامدار دو طبقوں پر ہے ۱علماء ۲ صاحب اقتدار. اسلیے ان دونوں کو فکر کرنے ضرورت ہے.
تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئ ہے کہ انڈیا سے ایک قافلہ اندلس گیا تھا اس بات کی تحقیق کےلیے یہاں سے چوٹی کے محدثین بڑے بڑے علماء کرام پیدا ہوئے جنھوں نےپوری دنیا کو اپنا لوہا منوایا لیکن آج وہاں کی حالت یہ ہوگئ ہیکہ اللہ کانام لینا بھی قانونا جرم سمجھا جاتا ہے آخر اتنی بڑی تبدیلی کی وجہ کیا ہے؟ چنانچہ پتہ چلا کہ امت کےعلماء کے تئیں اعتماد و بھروسہ کو کمزور کر کے ختم کیا گیا اسکے بعد بتدریج ایسا دن بھی آگیا کہ اللہ کانام لینا قانونا جرم ہو گیا.اسلیے بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے.

حضرت مولنا سجاد نعمانی صاحب نے مسلمانوں کو خطاب کرتے ہو ئے فرمایاکہ ہمارے ملک میں کفر و اسلام حق وباطل اور ظلم و انصاف کی لڑائ چل رہی ہے. ہمیں سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سامنے رکھتے ہو ئے تمام پہلوپر غور کر کے نئ حکمت عملی سے کام کرنا ہو گا جسے ہم ہندو کہ کر پکا ر رہے ہیں وہ ایک قوم نہیں بلکہ پانچ ہزار قبائل کا ایک مجموعہ ہے. اصل مسئلہ ظالم مظلوم کا ہے اونچ نیچ کا ہے. یاد رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم.نے تمام قبیلوں سے الگ الگ معاہدہ کیاتھا. لہذا اخلاص کے ساتھ اپنے بھولے پن کو ختم کرکے ہمیں نئ حکمت عملی سے آگے بڑھنا ہے . انشاء ا للہ ترقی ہمارے قدم چومے گی .

خلاصہ یہ ہیکہ اس دور کی اہم ضرورت قرآنی تعلیمات پر عمل اور نبوی طریقہ کو اپنا تے ہوئے علماء کی قدر دانی ان پر اعتماد کر نے کے ساتھ ساتھ قوم کے سیاسی شعور کو بیدار کرناہے. قوم کو ہمہ وقت ملک کے احوال و کوائف سے واقف کراتے رہیں. بچوں کی اسلامی تعلیم کے ساتھ دینی تربیت کر کے سیرت النبی صحابہ کرام تابعین سلف صالحین کے واقعات کے ذریعے انکے اندر آگے بڑھنے کا شوق و رغبت کو جلا بخشنے میں مصروف رہیں. ان سب کو کرنے سے قبل اللہ تعالی سے توبہ واستغفار کرکے معافی مانگے اپنے لیےامت کےلیے دعاء مانگے اور صدقہ نکالیں پہر اللہ تعالی کی مدد سے آگے بڑھیں …انشاء اللہ ہمارا مستقبل روشن وتابناک ہوگا……….

علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے:::

آسمان ہوگا سحر کے نور سے آئیں پوش.

اور ظلمت رات سیماب پا ہو جائے گی.

آملیں گے سینے چا کان چمن سے سینہ چاک.

بزم گل نفس باد صبا ہو جائے گی.

آنکھ جو دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں.

محو حیرت ہوں دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی.

شب گریزاں ہوگی آخر جلوۂ خورشید سے.

یہ چمن معمور ہوگا نغمئہ توحید سے.

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading