جے این یو طلبہ پر ہوئے حملے میں زخمی طلبہ کو دیکھنے کے لئے پرینکا گاندھی ایمس کے ٹرامہ سینٹر پہنچ گئیں ہیں۔
Delhi: Congress leader Priyanka Gandhi Vadra arrives at AIIMS Trauma Centre where 18 people from Jawaharlal Nehru University (#JNU) have been admitted following violence at university pic.twitter.com/Kw8t7gFyxU
— ANI (@ANI) January 5, 2020
حکومتی تحفظ میں ہو رہا جے این یو میں تشدد کا ننگا ناچ… رنديپ سرجےوالا
جے این یو تشدد پر کانگریس پارٹی کے ترجمان رنديپ سنگھ سرجے والا نے کہا، "مودی جی اور امت شاہ جی کی آخر ملک کے نوجوانوں اور طلبہ سے کیا دشمنی ہے؟ کبھی فیس اضافہ کے نام پر نوجوانوں کی پیٹائی، کبھی آئین پر حملے کی مخالفت ہو تو طلبہ کی پیٹائی، آج جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں تشدد کا ننگا ناچ ہو رہا ہے وہ بھی حکومتی تحفظ میں!‘‘
मोदी जी और अमित शाह जी की आख़िर देश के युवाओं और छात्रों से क्या दुश्मनी है?
कभी फ़ीस वृधि के नाम पर युवाओं की पिटाई, कभी सविंधान पर हमले का विरोध हो तो छात्रों की पिटाई।आज जवाहर लाल नेहरू में हिंसा का नंगा नाच हो रहा है और वो भी सरकारी संरक्षण में!
हमारा वक्तव्य- pic.twitter.com/igv9ALaI9K
— Randeep Singh Surjewala (@rssurjewala) January 5, 2020
بہادر طلبہ کی آواز سے ڈرتے ہیں ملک کے فاشسٹ… راہل گاندھی
دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں طلبہ کے ساتھ ہوئے تشدد کو لے کر کانگریس لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ راہل گاندھی نے کہا ہے کہ بہادر طلبہ کی آواز سے ملک کے فاشسٹ کو ڈر لگتا ہے،
راہل گاندھی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا، ’’نقاب پوش ٹھگوں کے ذریعہ جے این یو کے طلبہ اور اساتذہ پر کیا گیا سفاکانہ حملہ، جس میں کئی شدید زخمی ہو گئے، چونکانے والا ہے‘‘۔
The brutal attack on JNU students & teachers by masked thugs, that has left many seriously injured, is shocking.
The fascists in control of our nation, are afraid of the voices of our brave students. Today’s violence in JNU is a reflection of that fear.
#SOSJNU pic.twitter.com/kruTzbxJFJ
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) January 5, 2020
پولیس ہیڈ کوارٹر کے سامنے طلبہ کا مظاہرہ، اے بی وی پی پر حملہ کرنے کا الزام
دہلی کے آئی ٹی او پر واقع پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر ہزاروں طالب علموں کا جے این یو یونیورسٹی کیمپس اور ہاسٹل میں طلبہ اور اساتذہ کے ساتھ ہوئی مارپیٹ کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں، جے این یو کے طلبہ پر ہوئے حملے میں تقریباً 20 طالب علم زخمی ہوئے ہیں جنہیں ایمس میں داخل کرایا گیا ہے۔
Delhi: Students protest outside Delhi Police headquarters against attack on students at Jawaharlal Nehru University pic.twitter.com/lt62dQIskb
— ANI (@ANI) January 5, 2020
جے این یو میں حملہ کے خلاف پولیس صدر دفتر پر احتجاج
جامعہ کوآرڈینیشن کمیٹی کی کال پر سینکڑوں کی تعداد میں طلبا اور دیگر لوگ دہلی کے آئی ٹی او پر واقعہ پولیس کے صدر دفتر پر پہنچ کر احتجاج کر رہے ہیں۔
جے این یو میں نقاب پوشوں کے حملہ کے بعد پولیس ہیڈکوارٹر پر احتجاج کی تیاری
جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں گھس کر نقاب پوش غنڈوں کی طرف سے طلبا اور اساتذہ کے ساتھ کی گئی مار پیٹ کے بعد رات 9 بجے آئی ٹی او پولیس ہیڈ کوارٹر کے محاصرہ کی کال دے دی گئی ہے۔ آئی ٹی او پر احتجاج کی کال جامعہ کوآرڈینیشن کمیٹی کی جانب سے دی گئی ہے۔

جے این یو میں نقاب پوش غندوں کا حملہ، طلباء یونین کی صدر آئشی گھوش ودیگر طلبہ زخمی
دہلی کی مشہور جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ایک بار پھر ہنگامہ ہوگیا۔ خبروں کے مطابق نقاب پوش غنڈوں نے کیمپس کے اندر گھس کر توڑ پھوڑ کی۔ اور اساتذہ اور طلبہ پر بھی حملہ کیا۔ حملے میں طلباء یونین کی صدر آئشی گھوش اور جے این یو کی ایک اساتذہ سچترا پوری طرح سے زخمی ہوگئیں۔

جے این یو میں نقاب پوشوں کا حملہ، کئی طلبہ زخمی
دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے احاطے میں گھس کر لاٹھی اور ڈنڈوں سے لیس کچھ نقاب پوشوں نے طلباء اور اساتذہ کے ساتھ مرپيٹ کی، اس دوران جے این یو کی طلبا یونین کی صدر آئشی گھوش بری طرح زخمی ہو گئیں، آئشی نے بتایا کہ کچھ نقاب پوشوں نے انہیں بری طرح پیٹا۔
Jawaharlal Nehru University Student Union (JNUSU) President Aishe Ghosh at JNU: I have been brutally attacked by goons wearing masks. I have been bleeding. I was brutally beaten up. pic.twitter.com/YX9E1zGTcC
— ANI (@ANI) January 5, 2020
جالندھر میں نماز پڑھنے سے روکنے پر ماحول کشیدہ
جالندھر 05 جنوری (یواین آئی) پاکستان میں واقع گرودوارہ ننکانہ صاحب پر حملے کی مخالفت میں جالندھر کے فتح پور گاؤں کے کچھ نوجوانوں کے ذریعہ مسلمانوں کو مسجد میں نماز پڑھنے سے روکنے پر گاؤں میں ماحول کشیدہ ہو گیا۔ پولیس نے اس سلسلے میں دو نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے۔ مسجد-اے-كووا کے امام مظہر عالم نے اتوار کو بتایا کہ فتح پور مسجد کے قاضی محمدقیصر کی غیر موجودگی میں گاؤں کے کچھ لڑکوں نے مسلمانوں کو نماز پڑھنے سے روکا اور نازیبا الفاظ کا استعمال کیا۔انہوں بتایا کہ واقعہ کی اطلاع ملنے پر پولیس ڈپٹی کمشنر بلکار سنگھ نے دونوں فریقوں کو سمجھا کر معاملہ ٹھنڈا کیا۔ پولیس نے اس سلسلے میں گاؤں کے ہی دو لڑکوں کو حراست میں لیا ہے۔
جامعہ نگر، شاہین باغ میں سرگرمیاں تیز، بھاری تعداد میں پولیس اہلکار تعینات
دہلی کے جامعہ نگر، شاہین باغ میں سی اے اے، این آر سی مخالف احتجاج کے مقام کے قریب پولیس کی سرگرمیوں میں اضافہ نظرت آ رہا ہے۔ پولیس اہلکار کی ایک بڑی تعداد میں تعیناتی کی گئی ہے۔ پولیس کی سرگرمیوں کے پیش نظر بڑی تعداد میں لوگ احتجاجی مظاہرے کے مقام پر جمع ہوگئے ہیں۔
The #Police deployment at the #Protest site in #JamiaNagar #ShaheenBagh has increased. pic.twitter.com/bN2kcSht8d
— QAUMI AWAZ (@Qaumi_Awaz) January 5, 2020
جواد ظریف نے نے پومپيو کو ’گھمنڈی مسخرا‘ قرار دیا
تہران: ایران کے ٹاپ فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کے مارے جانے پر عراقیوں کے جشن منانے کے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپيو کے دعویٰ سے ناراض ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے انہیں (پومپيو کو) ’گھمنڈی مسخرا‘ قراردیا ہے۔
پومپيو نے عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکہ کی طرف سے کئے گئے ڈرون حملہ میں سلیمانی کے مارے جانے کے بعد دعویٰ کیا تھا کہ ان کے مارے جانے پر عراق کے لوگوں نے جشن منایا۔ ان کے اس بیان سے ناراض ظریف نے انہیں ’گھمنڈی مسخرا‘ بتاتے ہوئے جمعہ کی رات ٹوئٹر پر لکھا’’ایک سفارتکار کے بھیس میں ’گھمنڈی مسخرا‘ نے 24 گھنٹے پہلے دعوی کیا تھا کہ عراق کے شہروں میں لوگ جشن منا رہے ہیں۔ ہمارے لاکھوں بھائی بہن آج ملک بھر میں سلیمانی کی مقدس روح کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ مغربی ایشیا میں امریکہ کی موجودگی ختم ہونے کا آغاز ہو گیا ہے‘‘۔
اہم خبر: جنرل قاسم سلیمانی کی میت اہواز پہنچا دی گئی
تہران: عراق کی راجدھانی بغداد میں جمعہ کے روز امریکی حملہ میں ہلاک ہونے والے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی میت مغربی ایران کے شہر اہواز پہنچا دی گئی۔ دو روز قبل عراق کے دارالحکومت بغداد کے ایئرپورٹ پر امریکہ کی جانب سے راکٹ حملے کیے گئے تھے جس کے نتیجے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی سمیت 8 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ راکٹ حملے میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا پاپولرموبلائزیشن فورس (پی ایم ایف) کے ڈپٹی کمانڈرابومہدی المہندس بھی ہلاک ہوئے تھے۔
گزشتہ روز عراق کے دارالحکومت بغداد میں قاسم سلیمانی کی نماز جنازہ اداکی گئی تھی جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی اس موقع پر جنازہ میں شریک لوگوں نے امریکہ مردہ باد کے نعرے بھی لگائے تھے۔ قاسم سلیمانی کو ان کے آبائی قصبہ میں سپرد خاک کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ جنرل قاسم سلیما نی کی ہلاکت پر پنٹاگن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ قاسم سلیمانی کوامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پرمستقبل میں ایران کی جانب سے حملوں کو روکنے کے لیے ہلاک کیا گیا ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-