
از۔ محمد ریحان خان دربھنگوی
باتیں ہماری یاد رہیں ، باتیں پھر ایسی نہ سنئے گا
کہتے کسی کو سنئے گا ، تو دیرتک سر دھنئے گا
پاکیزہ روح ، پاکیزہ باطن ، صاف گو ، حاضر جواب ، حالاتِ حاضرہ پر گہری نظر ، اخلاف کو اسلاف سے مربوط رکھنے کا غیر معمولی جذبہ ، مسلمانوں کی دین و دنیاکی پستی اور زبوحالی دور کرنے کیلئے متنوع پروگرام کی ایک لمبی فہرست ، ضیافت و مہمان نوازی میں منفرد ویگانہ ، انشاءپرداز ، صاحب قلم ، قائدانہ صلاحیتوں کے حامل ، دین و شریعت کے پختہ کار ترجمان و شارح ، جرأت و ذہانت میں ہم عصروں سے ممتاز ، مستند ادیب و خطیب ، مدرسہ ابی حنیفہ راجہ بازار کے بانی ، مسجدِ دارالسلام ناکل کے خطیب و امام حضرت مولانا شرافت ابرار قاسمی دیناجپوریؒ اب ہمارے درمیان نہیں رہے ۔
موت تجدیدِ مذاقِ زندگی کا نام ہے
خواب کے پردے میں بیداری کا اک پیغام ہے ۔ اقبالؔ
واقعہ یہ ہیکہ مولاناؒ کاسانحہ ارتحال کلکتہ کی پچیس تیس سالہ روشن تاریخ کا خاتمہ ہے ، مولانا مرحوم عہدِ شباب سے لیکر تادمِ زیست شہرِ کلکتہ میں دینِ اسلام کی خدمت ، ترویج و اشاعت اسکے دفاع اور تحفظ میں سرگرم عمل رہے ،
مولانا رحمہ اللہ سے میری پہلی ملاقات اورتعارف کب اور کس طرح ہوا یہ اچھی طرح یاد تو نہیں البتہ اتنا یاد ہیکہ ، میرے محسن و کرم فرما ، حضرت مولانا عصمت اللہ رحمانی دامت برکاتہم اس کا ذریعہ بنے ، اس دن سے لیکر تادمِ حیات یہ تعلق بڑھتاہی رہا فللہ الحمد ۔
کلکتہ آنے کے بعد جن چند بزرگوں کو انتہائی قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ان میں حضرت مولانا شرافت ابرار دیناجپوریؒ نام انتہائی جلی ہے ، یوں تو مولانا مرحوم صحیح معنوں میں اسم با مسمیٰ تھے ، گونا گوں خوبیوں کے جامع تاہم بعض خوبیاں ایسی تھی کہ جو انھیں ہم عصروں سے ممتاز کرتی ہیں ۔ مولانا مرحوم اور ان کی دینی غیرت و حمیت ،
اقبالؔ نے کہا
افغانیوں کی غیرتِ دیں کا ہے یہ علاج
ملا کو ان کے کوہ و دمن سے نکال دو
گویا اقبال کی نظر میں دینی غیرت ایک مسلمان کے لئے سامانِ روح ہے ، اور اس دینی غیرت اور اسلامی حمیت کا سبب وارثان انبیا علما کرام ہیں ، یعنی مابہ الامتیاز علما کے لئے ان کی دینی غیرت ہے مولانا مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے اس کا وافر حصہ عطا کیا تھا ، یوں تو کئی ایسے واقعات ہیں جو ان کی دینی غیرت و حمیت کے غماز ہیں ، یہاں پر صرف ایک واقعہ نقل کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے ، مولانا ابوطالب رحمانی صاحب کی قیادت میں موجودہ حالات کے تناظر میں مختلف تنظیموں اور مُقتدَر شخصیات کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں کلکتہ کی ایک قدیم تنظیم کے اہم ذمہ دار نے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ تک کہدیا کہ مسلمان صبح کے وقت لاؤڈ اسپیکر سے اذان دیتے ہیں دوسروں کو تکلیف پہونچتی ہے لا حول ولا قوۃ الا اللہ ۔
یوں تو یہ جملہ اکثر سامعین کو ناگوار گزرا اور دل مسوس کر رہ گئے ، تاہم اس جملے سے عدمِ اتفاق کو کسی نے زبان سے ظاہر نہیں کیا ، سبب چاہے جوبھی رہا ہو ، لیکن بروقت جس شخص نے وہاں پر موجود سینکڑوں لوگوں کے دل کی آواز بن کر سامنے آئے اور ان صاحب کو ان اس غلط جملے پر ٹوک کر اجر و ثواب کے مستحق بنے وہ کوئی اور نہیں بلکہ مولانا مرحوم کی ذات گرامی تھی فجزا ھم اللہ خیرا (واضح رہے کہ بعد کے دنوں میں مذکورہ قدیم تنظیم کے اہم ذمےدار نےاپنے اس جملے پر معذرت کی )
مولانا شرافت ابرا اور دینی مدارس
بر صغیر میں اس وقت مسلمانوں میں جو کچھ دینی رمق ، دین سے عقیدت و محبت عملی اعتبار سے ہزار کوتاہیوں کے باوجود دین سے والہانہ لگاؤ (جو بہت سے اسلامی ملکوں میں نہیں ہے) اسلامی شعار کے تحفظ و بقا کے لئے تن من دھن کی بازی لگادینے کا سرفروشانہ جذبہ موجود ہے ،
یہ درحقیقت فیض ہے ان دینی مکاتب ، اسلامی مدارس کا جسے ہمارے اکابر نے ، دور اندیشی ، دینی بصیرت اور مومنانہ فراست سے ملک گوشے گوشے میں قائم کیا تھا ، جو آج تناور درخت ، اسلامی سرحدوں کے محافظ اور دین کے مضبوط قلعے بن چکے ہیں ہے ، فجزاھم اللہ تعالیٰ ۔
مولانا مرحوم نے بھی اپنے بزرگوں کی صحبت سے دینی مدارس کی اہمیت و افادیت کو سمجھا تھا چناں چہ دینی مدارس کا قیام ، اسکی تقویت ہر محاذ پر اس کا دفاع مولانا کا جز لاینفک بن گیا تھا ، اسی پس منظر میں انھوں کلکتہ میں مدرسہ ابی حنیفہ کے نام سے اور اپنے آبائی وطن دیناجپور میں مدرسہ نعمانیہ کے نام سے مدرسے قائم کئے اور ہر اعتبار سے اسے ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے ساعی و کوشاں رہے اتناہی نہیں بلکہ ملک کے طول وعرض میں موجود ہر مدرسے کو وہ اپنا مدرسہ سمجھتے تھے اسی تناظر میں کلکتہ ، بنگال ، بہار ، کے مدارس کے ذمہ داران ، مدرسین ، اساتذہ کی آمد مسلسل ان کے یہاں ہوتی رہتی تھی ، بلکہ اگر کوئی عالم دین ایسی جگہ سے تشریف لاتے جہاں آس پاس میں کوئی قابلِ ذکر مدرسہ نہ ہوتا تو ان کو اس جگہ مدرسے کے قیام کا مشورہ دیتے اور اس سلسلے میں بہت سے مفید مشوروں سے نوازتے اور ہمت دلاتے ۔
کوئی بزم ہو کوئی انجمن یہ شعار اپناقدیم ہے
جہاں روشنی کی کمی ملی وہیں اک چراغ جلا دیا ۔ کلیم عاجزؔ
مولانا کا اپنے اسلاف و اکابر سے گہرا لگاؤ ۔
اللہ رب العزت کے یہاں دوسلسلہ ہے ، ہدایات اور شخصیات یا یوں کہیں کتاب اللہ اور رجال اللہ ، صراطِ مستقیم پر گامزن ہو نے کے لئے ہدایات و شخصیات کے درمیان اعتدال کا پایا جانا ضروری ہے ، افسوس کہ اس سلسلے میں افرط و تفریط نے راہ پالی ، کہیں شخصیات کے حوالے سے غلو کی آمیزش ہے اور کہیں توحید و سنت کے نام پر مقدس شخصیات کی بے احترمی ہے ،
الحمد للہ اہل السنہ والجماعہ علما دیوبند کے یہاں اس سلسلے میں نقطہ اعتدال ہے ، حضرت مولانا شرافت ابرار قاسمیؒ کی تعلیم وتربیت بھی اسی ماحول میں ہوئی تھی جہاں کتاب و سنت کو آئینی حیثیت حاصل تھی تو دوسری طرف اللہ کے برگزیدہ بندوں کی عزت و عظمت ان کی شان میں ادنی درجے کی بے ادبی سے بچنے کی ھدایت دی جاتی ہے ۔
باادب بابصیب
اسلئے متقدمین و متاخرین تمام ہی اکابر سے انھیں ایسا قلبی تعلق ، گہرا لگاؤ ، والہانہ عقیدت و محبت ، کہ اگر کوئی ان کا تذکرہ شروع کردے تو سن کر طبعیت فرحت و انبساط سے مچل اٹھے ۔
یوں تو ان کادل تمام ہی اکابر کی محبت سے سرشار مخمور رہا کرتا تھا لیکن ان میں ایک نام ایسا تھا جن سے آپ کو عشق کی حد تک عقیدت تھی اور جن کا تذکرہ مولانا مرحوم کو آبدیدہ کردیتا تھا ۔
جی ہاں ! عالی مقام ، سراج الامہ ، نعمان بن ثابت امام اعظم ابوحنیفہ ؒ کی ذات ستودہ صفات ہے ۔
اسی روحانی رشتے کا مظہرِ جمیل مدرسہ ابی حنیفہ ہے ، جو ان کی ذات عالی سے منسوب محبت کا پیکر مجسم ہے ۔
مولانا مرحوم کا علمی استحضار
اللہ تباک و تعالی نے حضرتؒ کو اچھی ذہانت ، بات کو معقول مدلل انداز میں پیش کرنے کی غضب کی صلاحیت اور بات کی تہ تک پہونچ جانے کا حیرت انگیز ملکہ دیا تھا ،گردشِ لیل و نہار نے ان کے علم کو زنگ آلود نہیں کیا ، بلکہ بتوفیق الہی اپنی محنت و ذہانت ، کثرت مطالعہ سے علم و فن کو صیقل کئے رکھا ۔ باوجود ہجومِ مشاغل ، انتظامی اور تنظیمی سرگرمیاں ، مسلمانوں کے معاشرتی اور سماجی مسائل کی صلح صفائی ، کے ذوقِ طلب اور شوقِ سفر میں کمی نہیں آنے دی اور حسبِ ضرورت علمی کام انجام دیتے رہے ، چناں چہ کئی ایک کتابیں ان کی یادگار ہے ، مولانا کے سامنے میری حیثیت ایک ادنی طالبِ علم کی تھی لیکن یہ مولانا مرحوم کا عالی ظرف تھا دینی کاموں کے مشورے میں ہمیں شامل کرتے میری ٹوٹی پھوٹی باتوں تحسین فرماتے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے فجزاھم اللہ عنا احسن الجزا
نگہ بلند سخن دلنوا ز جاں پرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لئے ۔ اقبالؔ
مولانا مرحوم کے کارنامے ان کی دینی ملی سماجی خدمت کا دائرہ ہمہ جہت ہے جسے اس مختصر تاثراتی مضمون سمیٹا نہیں جاسکتا ،
فروغِ شمع جو اب ہے رہیگی رہتی دنیا تک
مگر محفل تو پروانوں سے خالی ہوتی جاتی ہے ۔
مولانا مرحوم کی وفات سےمسلمانانِ کلکتہ عموماً اور اہل علم خصوصاً اپنے مخلص ، بے لوث ، غمگسار ، جفاکش ، قائد سے محروم ہوگئے ، اللہ تبارک وتعالیٰ دین کےاپنے اس خادم کے ساتھ رحمت و عافیت کا معاملہ فرماکر اپنے مقرَّب بندوں میں شامل فرمائے آمین
حیاتِ انساں ہے شمعِ صورت ابھی ہے روشن بھی فسردہ
نہ جانے کتنے چراغ یوں ہی جلا کریں گے ، بجھاکریں کریں گے.