20 جولائی کے احتجاج کے بعد پورے ملک میں ایک جملہ بار بار سننے کو ملا: "جمہوریت کا قتل ہوگیا” یقینا اگر کسی پرامن احتجاج کو طاقت کے بل پر روکا جائے، اگر طلبہ و طالبات پر لاٹھی برسائی جاۓ، اختلاف راۓ کو تشدد کے ذریعے خاموش کرنے کی کوشش کی جائے، تو ہم کہہ سکتے ہے کہ ہاں اب اس ملک میں ” جمہوریت کا قتل ہوچکا ہے” کسی بھی جمہوری ملک کے لیے ایسے واقعات باعث تشویش ہونے چاہیے، ہر ایسے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیق ہونی چاہیے، اور اگر کہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے زیادتی ہوئی ہے تو اس کا حساب ہونا چاہیے۔
لیکن اس موقع پر ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ’ کیا زیادتی صرف اسی وقت ظلم کہلاتی ہے جب اپنوں پر کی جاۓ؟ یا ظلم ہر حال میں ظلم ہے، چاہے کسی پر ہو؟
یہیں وہ سوال ہے جس پر ہندوستانی عوام کو سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
اگر آج ہمیں دہلی کی سڑکوں پر زخمی ہونے والے طلبہ و طالبات کا درد محسوس ہوتا ہے، اور ہاں ہمیں درد ہے بھی، لیکن ہمیں سات برس پہلے کی وہ سرد رات بھی یاد ہے جب جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہونے والی پولیس کاروائی نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا، وہ مناظر آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں محفوظ ہیں جب سرکاری اہل کار طاقت کے زور پر لائبریری تک پہنچے، طلبہ زخمی ہوۓ، آنسو گیس کے گولے داغے گئے، اور ایک مایہ ناز تعلیمی ادارہ میدان کشمکش میں بدل گیا، اس وقت کچھ سیکولر افراد نے ضرور آواز اٹھائی، لیکن اکثر طبقہ وہ تھا جو ان کاروائیوں پر موج اڑا رہا تھا، مجھے آج بھی یاد ہے اس وقت جامعہ ملیہ پر ہونے والی کاروائیوں کی کوئی پوسٹ سوشل میڈیا پر نظر سے گزرتی تو لوگ کمینٹ سیکشن میں آکر ہنسنے لگتے، اور ظالم کی حمایت میں کھڑے نظر آتے۔ بعض لوگ تالیاں بجاتے نظر آۓ۔
جامعہ کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بھی ایسے ہی تنازعات اور سخت کارروائیوں کا مرکز بنی۔ اسی عرصے میں شہریت ترمیمی قانون ( CAA ) کے خلاف مختلف شہروں میں ہونے والے احتجاج کے دوران متعدد افراد جان سے گئے، کئی زخمی ہوۓ اور بے شمار جیل میں دھکیلے گئے۔ شاہین باغ میں مہینوں تک بیٹھنے والی خواتین کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا کردار کشی اور نفرت انگیز بیانات کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی مسلم چہروں کو دیش دروہی کہہ کر جیل خانے میں ٹھوس دیا گیا، کئی سال بیت گئے، کچھ کو پانچ پانچ سال بعد رہائی ملی، کچھ اب بھی اپنی باری کے منتظر ہیں، ان کے اہل خانہ کو اب بھی قانونی اور سماجی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ان تمام واقعات کے بارے میں ہر شخص کی اپنی الگ راۓ ہوسکتی ہے، لیکن اس حقیقت سے کوئی منہ نہیں پھیر سکتا کہ وہ "ظلم” تھا۔ جہاں بھی غیر ضروری تشدد ہوا، جہاں بھی بے گناہ لوگ مارے گئے، جب بھی بے قصور جیل خانوں کے سپرد کیے گئے، وہاں انصاف کا تقاضہ ہے، ہر باشعور شہری کی ذمےداری ہے کہ مظلوم کے لیے مضبوط آواز بنے، ظلم کے خلاف بولے۔
لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ظلم کی تعریف اکثر نظریات کے مطابق بدل جاتی ہے، اگر متاثر ہونے والا آپ کا ہم خیال و ہم مذہب ہے تو آپ اسے جمہوریت پر حملہ قرار دیتے ہیں، لیکن اگر متاثر شدگان کسی دوسرے مذہب و طبقے سے ہو یا آپ کے مخالف نظریے کے حامل ہو تو آپ کی زبانیں گنگ ہوجاتی ہے، ہونٹ ایک دوسرے سے چپک جاتے ہیں۔
انسانی تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کبھی ایک دروازے پر نہیں ٹھہرتا، جب معاشرہ کسی طبقے پر ہونے والی زیادتیوں پر چپی سادھ لیتا ہے تو ظالموں کو مزید طاقت ملتی ہے، وہی زیادتی ایک دن دوسرے دروازے تک آ پہنچتی ہے، آج اگر کسی طالب علم نے لاٹھی کھائی اور آپ چپ رہے، تو یاد رکھیے کل کوئی ڈاکٹر، انجینئر اور وکیل بھی لاٹھی کھا سکتے ہیں۔
اسی لیے انصاف کا اصول یہ ہے کہ ہم مظلوم کا نام نہیں پوچھتے، اسکی زبان، ذات یا سیاسی وابستگی نہیں پوچھتے، ہم صرف یہ دیکھتے ہیں کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔
ہندوستان کی اصل طاقت اس کا آئین ہے، اور آئین ہر شہری کو برابر کا درجہ دیتا ہے، اس کے نزدیک نہ عبدالرحمن کی جان کم قیمتی ہے اور نہ دیپک کی، نہ سیتا کے آنسو ہلکے ہیں اور نہ فاطمہ ہے، نہ کسی مسجد سے نکلنے والا شخص کم ہندوستانی ہے اور نہ کسی مندر سے نکلنے والا شخص زیادہ ہندوستانی۔ اس کے باوجود اگر کوئی اپنے کو زیادہ حقدار سمجھ کر کسی طبقے پر زیادتی کرنا چاہے تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ میڈیا، دانشوروں، سیاسی جماعتوں اور سوشل میڈیا صارفین پر ایک بڑی اخلاقی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ اگر ہمارا احتجاج صرف اپنے لوگوں تک محدود ہے اور دوسروں کے لیے زبانیں خاموش ہیں، تو یہ تعصب ہے، اگر ایک ظلم پر شور اور دوسرے ظلم کو جائز کہے تو ہم درحقیقت ظلم کے خلاف نہیں بلکے اپنے مفاد کے لیے آواز اٹھاتے ہیں۔
ایک مہذب معاشرہ وہ نہیں ہوتا جہاں صرف اپنے لوگوں کے لیے آواز اٹھے، بلکے ایک بہتر معاشرے کی یہ پہچان ہوتی ہے کہ وہ ہر ظلم پر آواز اٹھاتا ہے، ہر زیادتی پر مظلوم کے شانہ بشانہ نظر آتا ہے، چاہے وہ کسی بھی زبان، ذات یا سیاسی نظریے سے تعلق رکھتا ہو.
تحریر✍️فیضان الحق مہاراشٹر