جو جیوترآدتیہ سندھیا نے جو کیا وہ ان کے خون میں ہے!

جیوترآدتیہ سندھیا نے کل جو کچھ کیا ہے وہ ان کے خاندان کے لئے کوئی نیا نہیں ہے۔وقتی طور پر کانگریس اور مدھیا پردیش کے لئےانہوں نے پریشانیاں ضرور کھڑی کی ہیں اور اپنے لئے انہوں نے ضرور کچھ سیاسی فائدہ اٹھا لئے ہیں لیکن سیاست کے لمبے سفر میں انہوں نے اپنا قد بہت چھوٹا کر لیا ہے۔

ان کی دادی راجماتا وجے راجے سندھیا نے 1967 میں کانگریس کی حکومت گراکر مدھیا پردیش میں مخلوط حکومت قائم کی تھی ۔اس وقت انہوں نے اس وقت کے وزیر اعلی ڈی پی مشرا کی حکومت سے35 ارکان کے ساتھ اس لئے علیحدگی اختیار کر لی تھی کیونکہ وزیر اعلی نے راج گھرانے کی تنقید کر دی تھی۔ اس کے بعد گووند نرائن سنگھ وہاں کی مخلوط حکومت کے وزیر اعلی بنے تھے جو حکومت محض 19 ماہ ہی چل پائی تھی۔

وجے راجے سندھیا نے اس کے بعد جن سنگھ میں شمولیت اختیار کر لی اور پھر ان کے بیٹے اور جیوترآدتیہ سندھیا کے والد مادھو راؤ سندھیا سیاست میں داخل ہوئے اور 26 سال کی عمر میں وہ گنا کی سیٹ سے چناؤ جیتے۔ 1977 میں وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے لڑے اور جیتےاور پھر انہوں نے اپنے خاندان کو چھوڑکر کانگریس میں شمولیت اختیار کر لی کیونکہ اس وقت کانگریس اقتدار میں تھی۔انہوں نے گوالیئر سے 1984 میں اٹل بہاری واجپئی کو ہرایا۔

مادھو راؤ سندھیا بھی جب وزیراعلی نہیں بن پائے تھے تو انہوں نے کانگریس چھوڑکر یونائٹڈفرنٹ کی حکومت میں شمولیت اختیارکر لی تھی اور پھر بعد میں دوبارہ کانگریس میں آ گئے تھے۔ اگر سندھیا راج گھرانے کی تاریخ میں جایا جائے تو یہ اقتدار کے علاوہ کبھی کسی کے سگے نہیں ہوئے ۔ بغاوت کرنا اور واپس آنا ان کے خون میں ہے اور وہ کسی نظریہ کے ساتھ نہیں جڑے ہیں۔خود مادھو راؤ سندھیا کی دو بہنیں بی جے پی میں ہیں۔سندھیا کے اس عمل سے یہ واضح ہو گیاہے کہ وہ اقتدارکے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں اور ان کو اپنے رائے دہندگان سے کوئی مطلب نہیں ہے ،ان کی سوچ ابھی بھی وہی راج گھرانے والی ہے۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – بشکریہ قومی آواز بیورو

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading