جنرل کوچ سے متعلق بھارتی ریلوے کا نیا اصول: مخصوص مسافروں کو ہی کاؤنٹر پر ٹکٹ ملے گا، کیسے اور کہاں دیا جائے گا؟

بھارت میں روزانہ لاکھوں عام شہری ریلوے کا استعمال کرتے ہیں۔ دفتر جانا ہو، گاؤں جانا ہو یا کہیں گھومنے پھرنے جانا ہو، ایسے تمام مواقع پر ریلوے ہی عام لوگوں کا سب سے آسان، سستا اور بھروسے مند ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔ جنرل کوچ سے لے کر تھرڈ اے سی تک، لوگ اپنے بجٹ کے مطابق ٹکٹ لے کر سفر کرتے ہیں۔
لیکن اب ریلوے کے سفر میں کچھ بڑے بدلاؤ ہونے جا رہے ہیں۔ یہ تبدیلیاں مسافروں کی سیکیورٹی، پرائیویسی اور جنرل کوچز میں ہجوم پر قابو پانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

بھارتی ریلوے نے حال ہی میں دو اہم فیصلے لیے ہیں۔ پورے ملک کی تمام ٹرینوں کے انجن اور کوچز میں جدید سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں گے۔ ریلوے وزیر اشونی ویشنو کے مطابق، مجموعی طور پر 15,000 انجنوں اور 74,000 کوچز میں یہ جدید کیمرے لگائے جائیں گے۔ ہر انجن میں 6 کیمرے ہوں گے، جو کم روشنی میں بھی اور 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ٹرین میں بھی صاف ویڈیو ریکارڈ کریں گے۔ اس سسٹم کو مسافروں کی پرائیویسی کا خیال رکھتے ہوئے نافذ کیا جائے گا۔

اسی طرح، 15 جولائی 2025 سے فوری ٹکٹ (تاتکال) بکنگ کے دوران آدھار پر مبنی او ٹی پی ویریفکیشن لازمی ہوگا۔ IRCTC کی ویب سائٹ یا ایپ سے ٹکٹ بک کرتے وقت آدھار کارڈ لنک کرنا پڑے گا۔ ریلوے کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے جعلی ایجنٹس اور ٹکٹوں میں ہونے والی دھاندلی پر روک لگے گی۔

فی الحال ایک جنرل کوچ میں 300 سے 400 مسافر سوار ہوتے ہیں، جو ماہرین کے مطابق نہایت خطرناک ہے۔ اس کے پیش نظر نئی دہلی میں ایک پائلٹ پروجیکٹ کے تحت ہر جنرل کوچ کے لیے صرف 150 ٹکٹ جاری کیے جائیں گے۔ اس کے لیے ایک خاص سافٹ ویئر استعمال کیا جا رہا ہے جو آئندہ تین گھنٹوں میں روانہ ہونے والی ٹرینوں کی تعداد اور ان کے جنرل کوچز کی گنتی کر کے اسی کے مطابق ٹکٹوں کی حد طے کرے گا۔
مثال کے طور پر اگر تین گھنٹوں میں 4 ٹرینیں روانہ ہونے والی ہوں اور ہر ٹرین میں 4 جنرل کوچز ہوں تو صرف 2400 ٹکٹ ہی جاری کیے جائیں گے۔ اس حد سے زیادہ کوئی ٹکٹ نہیں دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ہر کوچ کے لیے 20 فیصد ٹکٹ درمیانی اسٹیشنوں سے سوار ہونے والے مسافروں کے لیے محفوظ رکھے جائیں گے۔

اس کا فائدہ تھرڈ اے سی کوچز کے مسافروں کو بھی ہوگا۔ فی الحال، کئی بغیر ریزرویشن والے مسافر سیدھے تھرڈ اے سی کوچز میں گھس آتے ہیں، جس کی وجہ سے اصل ٹکٹ رکھنے والے مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی مسئلہ سوشل میڈیا پر بھی بحث کا موضوع بنا ہوا تھا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading