نئی دہلی: مسلمانوں اور خاص مسلم تنظیموں کے درمیان اتحاد و اشتراک پر زور دیتے ہوئے جمعیۃ علما ہند نے کہا کہ وہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے ساتھ تعاون کرے گی۔ یہ بات مشاورت کی مجلس عاملہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے کہی ۔مشاورت کی جاری کردہ ریلیز کے مطابق انہوں نے کہا کہ نہ وہ اب وہ حالات ہیں نہ وہ افراد رہے جب لاتعلقی کا فیصلہ ہوا تھا ۔ مولانا مدنی نے ملک کی سیاسی و سماجی صورت حال کی سنگینی پر توجہ دلاتے ہوئے قوم وملت میں اتحاد و اتفاق اور اہم امور پر متفقہ موقف اختیار کرنے پر زور دیا۔
انھوں نے حاضرین کو یقین دلایا کہ جمعیۃ علما ہند کی مجلس عاملہ کے آئندہ اجلاس میں مشاورت میں جمعیۃ کی شمولیت کی تجویز لائی جائے گی ۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مولانا محمود مدنی کی مجلس عاملہ نے بھی مشاورت کے ساتھ تعاون کرنے کی قراداد منظور کی ہے اور مشاورت کی رکنیت قبول کرنے کا موضوع ابھی ان کے بھی زیر غور ہے۔
قبل ازیں اپنے خیر مقدمی کلمات میں مشاورت کے صدرفیروزاحمد ایڈوکیٹ نے اتحادو اتفاق پر زور دیتے ہوئے مسلمانوں کو پسماندہ ،غیر پسماندہ میں بانٹنے کی کوششوں کی مذمت کی اور مسلمانوں سے بلالحاظ مسالک و مکاتب فکر اس سازش کو ناکام بنانے کی اپیل کی جبکہ سابق صدر نوید حامد نے کہا کہ جب کوئی یہ کہتا ہے کہ مسلمان خوفزدہ ہیں توفرقہ پرستوں کا حوصلہ بڑھتاہے۔ہمیں متحد ہوکراور پورے حوصلے سے فاشزم کا مقابلہ کرنا ہے۔ مشاورت کے نائب صد ر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی،امیر مرکزی جمعیۃ اہلحدیث نے اپنے تاثرات میں کہا کہ اس وقت سارے اختلافات کو بھلا کر ملت کو متحد ہونے اور ملک کے اتحاد واتفاق کا دفاع کرنے کی ضرورت ہے ۔
مشاورت کی نائب صدر عابدہ انعامدار پیرپاشاحسینی ، مسلم مجلس کے لیڈر یوسف حبیب اورمولانا ڈاکٹر محمد یاسین قاسمی نے بھی اس موقع پر اپنی رایوں اور تاثرات کا اظہار کیا۔سابق مرکزی وزیر،کانگریس کے سینئر لیڈر، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے رکن اورسپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ سلمان خور شید نے اس موقع پر میڈیا کے رویے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مشاورت کو سوشل میڈیا کی طرف توجہ دینے اور اپنی سرگرمیوں سےلوگوں کو جوڑنےکے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔ جبکہ مشاورت کے سکریٹری جنرل سید تحسین احمد نے بتایا کہ مشاورت کی نئی ویب سائٹ انگریزی ،اردو اور ہندی تین زبانوں میں کام کررہی ہے اور ا س کی پہنچ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ مشاورت کو یو ٹیوب ، ٹوئٹر (ایکس)، فیس بک اور انسٹاگرام پر بھی پوری سر گرمی سے لانے کی تیاری کرلی گئی ہے ۔مشاورت کے جنرل سکریٹری( میڈیا)شیخ منظوراحمد نے اس تعلق سے رپورٹ پیش کرتے ہوئے مشاورت میڈیا ریسرچ اینڈ ریسورس سینٹر کے قیام اور مظلوم صحافیوں کی مالی اور قانونی امداد کے لئے کارپس فنڈ کی قیام کی تجویز پیش کی ۔ا س سے قبل مشاورت کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں ملک کی سماجی و سیاسی صورت حال پر قراردادیں پیش کی گئیں ۔