ناندیڑ: (ورق تازہ نیوز)ماہِ رمضان المبارک رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے۔ اس بابرکت مہینے میں ہر مسلمان اللہ تعالیٰ کی رضا اور مغفرت کے حصول کے لیے عبادات، صدقات و خیرات اور زکوٰۃ کی ادائیگی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے۔ بالخصوص یتیموں، مستحقین اور دینی مدارس کی معاونت کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔شہر ناندیڑ میں بھی ہر سال ملک کے مختلف حصوں سے نامور دینی مدارس کے سفیر آتے ہیں اور مدارس کی مالی معاونت کے لیے عوام سے اپیل کرتے ہیں۔ شہری اپنی استطاعت کے مطابق عطیات، صدقات اور زکوٰ? کے ذریعے دل کھول کر تعاون کرتے ہیں۔
جعلی سفیروں کے واقعات میں اضافہ
تاہم گزشتہ چند برسوں سے چند افسوسناک واقعات منظرِ عام پر آئے ہیں، جن کی وجہ سے عوام میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق کچھ افراد جعلی مدارس اور مساجد کے نام پر چندہ جمع کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق ناندیڑ کے بعض افراد دیگر اضلاع اور ریاستوں میں مشتبہ طور پر چندہ مانگتے ہوئے گرفتار ہوئے۔ اسی طرح دیگر ریاستوں سے آنے والے بعض نام نہاد “سفیر” ناندیڑ میں جعلی دستاویزات کے ساتھ چندہ جمع کرتے پکڑے گئے۔ان واقعات نے مخیر حضرات کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور اب بہت سے لوگ چندہ دینے سے قبل مکمل تحقیق اور تصدیق کو ضروری سمجھ رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل
حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر بھی ایسے کئی ویڈیوز وائرل ہوئے ہیں جن میں مبینہ طور پر چندہ کے نام پر دھوکہ دہی کے معاملات سامنے آئے۔ ان ویڈیوز کے بعد شہریوں میں بیداری بڑھی ہے اور لوگ رسید، رجسٹریشن نمبر اور مستند دستاویزات طلب کر رہے ہیں۔
عوام سے اپیل :علمائے کرام اور سماجی حلقوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ:
- کسی بھی مدرسہ یا مسجد کے نام پر چندہ دینے سے قبل اس کی صداقت کی جانچ کریں۔
- باقاعدہ رسید اور رجسٹریشن کی تفصیلات حاصل کریں۔
- مشتبہ افراد کی اطلاع فوری طور پر مقامی انتظامیہ کو دیں۔
شہر کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ رمضان جیسے مقدس مہینے میں اس طرح کی دھوکہ دہی نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مستحق اداروں کی حقیقی مدد بھی جاری رہے اور جعلی عناصر کے خلاف سخت کارروائی بھی عمل میں لائی جائے، تاکہ عوام کا اعتماد بحال رہ سکے۔