بھیونڈی (شارف انصاری):- بھیونڈی تعلقہ کے پمپل گھر میں واقع پرانایو ہسپتال کے سرجن اور پلاسٹک سرجن کی ٹیم نے ایک نئی ایجاد کی ہے ۔جس میں نوجوان کی جدید طریقے کی پلاسٹک سرجری کے ذریعہ ہاتھ کٹنے سے بچایا گیا ۔ واضح طور ہوکے انیس نامی مریض کے ہاتھ پر گہرا زخم تھا ۔ اس دردناک بیماری کی وجہ سے اس کے بازو کاٹنے کی حالت ہوگئی تھی ۔اس بیماری کی وجہ سے نوجوانوں کے ہاتھ میں خون کی فراہمی کرنے والی نبض پوری طرح پھٹ گئی تھی جس کے سبب تیز خون کا بہاؤ ہوا رہا تھا۔ خون کے بیاو کو روکنے اور مریض کے ہاتھ اور زندگی کو بچانے کے لئے ہاتھ میں زخم کو صاف کر بھرنے کی پہلی ضرورت تھی ۔ پہلے دن ڈاکٹر راجش بھوئیر اور اسسٹنٹ مختص شیخ نے خون بہاؤ کو روکنے کے مقصد سے سرجری کا مظاہرہ کیا جس میں وہ کامیاب ہوگئے ۔اس کے بعد پلاسٹک سرجن ڈاکٹر ونود پاچڑے ، ڈاکٹر اظہر قاضی نے پورے ہاتھ کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی ۔ اس کے لئے انہوں نے پاؤں سے تقریبا 25 بائی 17 سینٹی میٹر گوشت اور جلد کا حصہ نکال کر ہاتھ میں لگايا ۔ڈاكٹرو نے بتایا کہ عام طور پر اتنا بڑا گوشت اور جلد کا حصہ دوسری جگہ لگانے پر زندہ رہنا ممکن نہیں ہوتا لیکن یہ نئے طرز علاج و طریقے کو پرانایو ہسپتال کے عملے نے ممکن کر دکھایا ہے۔ اس قسم کی سرجری کے ساتھ انیس نے نئی زندگی پائی ہے اور اس کا ہاتھ کٹنے سے بچا یا جاسکا ۔ بھیونڈی میں اس طرح کا یہ پہلا کامیاب آپریشن تھا ۔