نئی دہلی، 25 اپریل (ایجنسیز)ہندستانی ٹیسٹ ٹیم کے نوجوان وکٹ کیپر بلے بازرشبھ پنت کرکٹر بننے کے اپنے جدوجہد کےدنوں میں گرودوارے میں بھی سو جایا کرتے تھے۔
21 سالہ پنت نے جمعرات كو یہاں ایک پروگرام میں یہ انکشاف کیا۔ پنت نے کہاکہ میرے پاپا کرکٹ کھیلا کرتے تھے اور وہ بھی چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا کرکٹر بنے۔ میں اتراکھنڈ میں پیدا ہوا تھا اور رڑكي میں پڑھتا تھا۔ اس وقت جب میں رڑكي میں کھیلا کرتا تھا تو مجھے مشورہ دیا گیا تھا کہ مجھے دہلی جانا چاہیے۔
ہندستانی ٹیسٹ ٹیم میں جگہ بنا چکے اور آئی پی ایل میں دہلی کیپٹلس ٹیم میں 15 کروڑ روپے کے کھلاڑی پنت نے کہاکہ میں رڑكي سے دہلی مشق کرنے آتا تھا۔ رات میں دو بجے کی بس پکڑ کر میں دہلی آتا تھا تاکہ میں یہاں مشق کر سکوں۔ میں قریب چھ گھنٹے کا سفر طے کرتا تھا۔ کبھی میں اپنی دیدی کے گھر جاتا تھا تو کبھی گرودوارے میں ہی سو جایا کرتا تھا۔
انہوں نے کہاکہ میں دہلی سے راجستھان بھی گیا اور پھر واپس کرکٹ کھیلنے کے لیے دہلی آ گیا۔ میں نے یہاں تک پہنچنے کے لئے ایک طویل سفر طے کیا ہے۔ پنت ہندستانی ٹیسٹ ٹیم کا حصہ ہیں اور اس سے پہلے وہ ہندستان اے ٹیم کے ساتھ بھی کھیل چکے ہیں۔
اتراکھنڈ کے ہری دوار میں پیدا ہوئے پنت نے اب تک 9 ٹیسٹ، 5 ون ڈے اور 15 ٹوئنٹی 20 میچ کھیلے ہیں۔ وہ عالمی کپ کے لیے ہندستانی ٹیم کے تین اختیاری کھلاڑیوں میں شامل ہیں۔