نئی دہلی، یکم نومبر(یو این آئی) اتر پردیش کے رامپور شہر میں واقع سی آر پی ایف کیمپ پر ہوئے دہشت گردانہ معاملے میںآج بالآخر12سالوں کے طویل انتظار کے بعد مقدمہ کا اختتام عمل میں آیا جس کے دوران عدالت نے ایک جانب تین ملزمین کو ناکافی ثبوت و شواہد کی بنیاد پردہشت گردی کے الزامات سے بری کردیا وہیں بقیہ پانچ ملزمین کو قصور وار ٹہرایا ، عدالت ملزمین کی سزا کا تعین کل کریگی ۔
یہ اطلاع ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعتہ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔ جن ملزمین کو عدالت نے قصور وار ٹہرایا ہے ان کے نام عمران شہزاد،محمد فاروق،صباح الدین،محمد شر یف،جنگ بہادر ہیں ۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج سنجے سنگھ نے آج سخت حفاظتی بندوبست میں فیصلہ صادر کیا ،فیصلہ سنائے جانے کے وقت عدالت میں ملزمین اور ان کے اہل خانہ موجود تھے جبکہ اس معاملے کی پیروی کرنے والے دفاعی وکلاء بھی موجود تھے۔
خصوصی جج نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ ملزمین محمد کوثر، گلاب خان اور فہیم انصاری کے خلاف ملک دشمن سرگرمیوں اوردہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات نہیں ملے ہیں لہذا انہیں باعزت بری کیا جاتا ہے حالانکہ عدالت نے ملزم فہیم انصاری کو 420 کے معاملے میں قصور ٹہرایا ہے لیکن اس دفعہ کے تحت ملنے والی سزا سے زیادہ وقت فہیم انصاری جیل میں گذارچکا ہے لہذ اسے جیل سے رہائی ملنے کے قومی امکانات ہیں ، عدالت کل فہیم انصاری کی 420 معاملے میں سزا کا تعین کریگی۔