تین لیڈی ٹیچرس کی ہراسانی سے تنگ آکر اکولہ میں مسلم طالب علم التمش کی خودکشی،ویڈیورپورٹ بھی دیکھیں

اکولہ (مہاراشٹر) 19 مارچ۔( ورقِ تازہ نیوز)اسے اسکول کی پر نسپل اور ٹیچر اس لئے مار پیٹ اور ہراساں کیا کرتے تھے کہ وہ ایک 15 سالہ مسلم طالب علم تھا ۔ اس ظلم اور بربریت سے تنگ آکر گورو نانک و دھا لیہ، سندھی۔ کیمپ علاقے اکولہ کے التمش بیگ نے گھر میں پھانسی لے کر خود کشی کر کے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا ۔

التمش بیگ نے بروز ہفتہ 16 ار مارچ 2024 کو اپنی ماں کو بتایا کہ وہ اوپر کے کمرے میں پڑھنے جا رہا ہے۔ جب وہ ایک گھنٹہ تک نہیں آیا تو اُس کی ماں نے کمرے میں جاکر دیکھا تو بیٹے کی لاشی پھانسی کے پھندے سے لٹک رہی تھی ۔

التمش نے اپنے والدین سے بارہا کہا تھا کہ اس کے اسکول کے ٹیچر، پر نسپل اُسے مسلسل ہر اساں کر رہے ہیں ۔ اسے مسلمان ہونے کی وجہ سے بے عزت کرتے ہیں۔ اس لئے اُس کا ا سکول تبدیل کر دیا جائے لیکن والدین نے کوئی توجہ نہیں دی۔

متوفی کے والد عمران افسر بیگ سے پولس اسٹیشن میں اسکول کی تین لیڈی ٹیچرسی میرا آہوجہ ، سیلیش اور گیتا کے خلاف پیر 17 مارچ کو فریاد درج کروائی ۔ یہ معاملہ اکولہ کے ایس پی کو بھی بتایا گیا ہے۔ جس کے بعد پولس نے قانون کا روائی شروع کر دی۔(ویڈیو دیکھیں)

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading