نئی دہلی: سترہویں لوک سبھا کے پہلے سیشن میں جمعہ کو پارلیمنٹ میں تین طلاق قانون پیش کیا گیا۔ بی جے پی کے لئے لوک سبھا میں اس بل کو پاس کرانا کافی آسان ہے ، لیکن راجیہ سبھا میں پاس کرانا اس کیلئے آسان نہیں ہوگا۔ بل کو لوک سبھا میں پیش کرنے سے پہلے وزیر قانون روی شنکر پرساد نے ایوان سے اپیل کی کہ 70 سال سے چلی آرہی اس روایت کے خلاف قانون بنایا جائے اور سبھی پارٹیاں اس میں مدد کریں۔مرکزی کابینہ کے ذریعہ کچھ ترمیمات کے ساتھ اس کو پہلے سے ہی پاس کیا جاچکا ہے۔ 29 دسمبر 2017 کو لوک سبھا میں یہ قانون پاس ہوگیا تھا ، جس میں فوری تین طلاق دینے کو جرائم کے زمرہ میں ڈالا گیا تھا۔
تین طلاق سے وابستہ ترمیم شدہ بل میں کیا ہے نیا ؟ جانیں یہ پانچ اہم باتیں
تین طلاق بل کو اگر منظوری مل جاتی ہے تو یہ قانون غیر ضمانتی برقرار رہے گا ، لیکن ملزم ضمانت مانگنے کیلئے سماعت سے پہلے بھی مجسٹریٹ سے درخواست کرسکتا ہے۔
یہ بندوبست اس لئے جوڑا گیا ہے تاکہ مجسٹریٹ بیوی کی باتیں سننے کے بعد ضمانت دے سکیں۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ مجوزہ قانون میں تین طلاق کا جرم غیر ضمانتی بنے رہے گا۔
مجسٹریٹ طے کریں گے کہ ضمانت صرف اس وقت دی جائے ، جب شوہر قانون کے مطابق بیوی کو معاوضہ دینے پر راضی ہو۔
پولیس صرف اس وقت کیس درج کرسکتی ہے جب متاثرہ بیوی ، اس کا کوئی قریبی رشتہ دار یا شادی کے بعد اس کا رشتہ دار بنے کسی شخص کی جانب سے پولیس سے فریاد کی جائے۔
قانون کے مطابق معاضہ کی رقم مجسٹریٹ کے ذریعہ طے کی جائے گی۔