تین طلاق بل LIVE: صرف مسلم خواتین کی فکر کیوں، ہندو اور عیسائی خواتین بھی پریشان… ڈی ایم کے

کنی موجھی نے تین طلاق بل میں موجود خامیوں پر اٹھائی انگلی

ڈی ایم کے لیڈر کنی موجھی نے تین طلاق بل پر بحث کے دوران اس میں موجود کئی خامیوں کو منظر عام پر لایا اور اس بل کو لے کر مودی حکومت کی نیت پر بھی شک کا اظہار کیا۔ کنی موجھی نے کہا کہ طلاق سے صرف مسلم خواتین پریشان نہیں ہیں بلکہ ہندو اور عیسائی خواتین کو بھی انصاف چاہیے، پھر صرف مسلم خواتین کے لیے ہی بل کیوں؟ کنی موجھی نے اس بل کو لے کر مودی حکومت کی جلد بازی پر بھی سوالیہ نشان لگایا۔ انھوں نے کہا کہ اس جلد بازی سے ملک میں بنٹوارے کا پیغام جا سکتا ہے۔ انھوں نے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خواتین کے حق کی بات کرنے سے پہلے انھیں خاتون ریزرویشن بل نافذ کرنا چاہیے، آنر کلنگ کو لے کر بل لانے کی بات سوچنی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی لیڈر آزادی کی بات کر رہے ہیں لیکن آج ملک میں کھانے اور پہننے کی آزادی میسر نہیں ہے۔

میناکشی لیکھی نے اکھلیش حکومت پر لگایا الزام تو لوک سبھا میں ہوا ہنگامہ

لوک سبھا میں تین طلاق بل پر بحث جاری ہے اور اس درمیان بی جے پی رکن پارلیمنٹ میناکشی لیکھی اور سماجوادی پارٹی رکن پارلیمنٹ اکھلیش یادو کے درمیان تلخ کلامی دیکھنے کو ملی۔ جب میناکشی لیکھی نے یو پی میں تین طلاق کے بڑھتے معاملوں کے لیے اکھلیش حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا تو اکھلیش نے اس پر اعتراض ظاہر کیا۔ انھوں نے میناکشی کا جواب دینے کی اجازت مانگی لیکن انھیں کہا گیا کہ جب ان کا موقع آئے گا تو اپنی بات رکھیں۔

لوک سبھا میں طلاق ثلاثہ بل پر بحث شروع

لوک سبھا میں وزیر قانون روی شنکر پرساد نے تین طلاق بل کو ایوان میں بحث کے لیے رکھ دیا ہے۔ لوک سبھا میں وزیر قانون نے کہا کہ طلاق ثلاثہ کی متاثرہ مسلم بہنوں نے سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی۔ اس کے بعد عدالت نے فیصلہ دیتے ہوئے تین طلاق کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔ اس کے بعد عدالت نے اسے شریعہ کے خلاف بھی بتایا تھا۔ روی شنکر پرساد نے اس قانون کے نفاذ کو انسان اور انسانیت کے لیے ضروری قرار دیا۔


بی جے پی، کانگریس، آر جے ڈی اور این سی پی نے وہپ کیا جاری

لوک سبھا میں آج مودی حکومت کچھ ترمیم کے ساتھ طلاق ثلاثہ یعنی تین طلاق بل پیش کرنے والی ہے۔ کانگریس کی قیادت والی یو پی اے میں شامل سبھی پارٹیوں نے اس بل کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ تین طلاق بل جس طرح کی تبدیلی ضروری ہے، وہ نہیں کی گئی ہے اور یہ مناسب نہیں ہے۔ اس بل کو پاس کرانے کے لیے بی جے پی نے پہلے ہی اپنے لوک سبھا اراکین کو وہپ جاری کیا ہوا ہے۔ اب کانگریس، آر جے ڈی اور این سی پی نے بھی اپنے اپنے اراکین لوک سبھا کو وہپ جاری کر ایوان میں موجود رہنے کا حکم دیا ہے۔ لوک سبھا میں اس بل پر بحث کے دوران زبردست ہنگامے کے آثار نظر آ رہے ہیں۔

یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading