تھانے کلکٹر آفس کے سامنے ٹھیکیداروں کا ‘چھتری احتجاج’! برساتی کمپنیوں کو فوری ادائیگی، پرانے ٹھیکیدار نظرانداز

تھانے کلکٹر آفس کے سامنے ٹھیکیداروں کا ‘چھتری احتجاج’!
برساتی کمپنیوں کو فوری ادائیگی، پرانے ٹھیکیدار نظرانداز

تھانے، 4 جولائی: (آفتاب شیخ)
ریاستی حکومت کی جانب سے برسوں سے کام انجام دینے والے ٹھیکیداروں کو بقایا رقم کی عدم ادائیگی کے خلاف ریاستی ٹھیکیدار مہاسنگھ نے آج تھانے ضلع کلکٹر آفس کے سامنے علامتی "چھتری احتجاج" کیا۔ اس مظاہرے کی قیادت تھانے ضلع صدر منگیش آولے نے کی۔

ٹھیکیداروں کا الزام ہے کہ ریاست بھر میں 3 لاکھ سے زائد ٹھیکیداروں کے 90 ہزار کروڑ روپے کے بل بقایا ہیں۔ اس کے باوجود حکومت حالیہ دنوں میں ابھرنے والی انفرا اسٹرکچر کمپنیوں کو نہ صرف ترجیح دے رہی ہے بلکہ ان کے بل بھی فوری ادا کیے جا رہے ہیں، جو ناانصافی ہے۔

مظاہرہ کرنے والے ٹھیکیداروں نے بارش نہ ہونے کے باوجود ہاتھوں میں چھتریاں لے کر احتجاج کیا اور کہا کہ یہ نئی کمپنیاں بھی برساتی چھتریوں کی طرح ہیں، جو صرف مانسون میں نمودار ہوتی ہیں اور پھر غائب ہو جاتی ہیں۔ منگیش آولے نے کہا کہ ریاست میں برسوں سے ایمانداری سے کام کرنے والے ٹھیکیداروں کو نظر انداز کر کے ان برساتی کمپنیوں کو نوازا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 5 فروری سے ریاست گیر "کام بند" تحریک جاری ہے، مگر حکومت نے اب تک صرف 4 فیصد بقایا بلوں کی ادائیگی کی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ جنوری سے ستمبر 2024 کے درمیان ریاستی حکومت نے 1.5 لاکھ کروڑ روپے کے ترقیاتی کام بغیر مالیاتی منظوری کے تفویض کیے، جس سے بحران مزید گہرا ہوا۔

آولے نے مطالبہ کیا کہ تمام بقایا جات یعنی 40 ہزار کروڑ روپے فوری ادا کیے جائیں، ترقیاتی کاموں کی منظوری فقط مالیاتی فراہمی کے بعد دی جائے، ٹھیکیداروں کو قانونی تحفظ دینے کے لیے قانون سازی کی جائے، تمام محکموں کے چھوٹے کاموں کو یکجا کر کے بڑی ٹینڈر نکالنے کے عمل پر فوری پابندی لگائی جائے، محکمہ تعمیرات عامہ، ضلع پریشد، آبی وسائل، شہری ترقی وغیرہ میں کام ضوابط کے مطابق انجینئروں کو سونپا جائے۔
اس احتجاج میں انیل نلاوڈے، بال کرشنا ٹھاکرے، چیتن شندے، ملند ساٹھے، ہرشد گندھے، پروین باہیتی، منورکر سپکال، سرودے ہانڈے، باوسکر درشن شندے، روی مالوسرے و دیگر افراد شریک ہوئے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading