تھانے(مہارتھی) ۴۲جنوری: ممبراکے سماجی وفلاحی ادارے ’می مبرائیکر‘کی قیادت میں گزشتہ تین ایّام سے مقامی باشندوں کامسلسل جاری احتجاج بالآخر تھانے کے بی جے پی سے رکنِ اسمبلی سنجے کیلکرکی یقین دہانی کےے بعد کل دیررات ختم ہوگیااورسرکاری مندوبین سے گفت وشنیدکے بعد ۸۱افرادنے ٹورنٹ کی آمدکے خلاف بھوک ہڑتال ختم کردی ہے ،اس موقعے پربرگزیدہ شہریوں کیساتھ سیّدعلی اشرف بمعروف آندولن سمراٹ بنفسِ نفیس موجودتھے واضح رہے کلوا،ممبرا،شیل اوردیواکی حدودمیں نجکاری کے تحت ۶۲جنوری سے ٹورنٹ مسلّط کرنے کاصوبائی سرکارنے فیصلہ کیاہے جس کے خلاف مقامی سطح پر ہرسومذمّتی قراردادیں پیش کی گئیں بالآخرتھانے کے مذکورہ بالامتاثرہ علاقوں کے اربابِ سیاست وسماجی خدمتگاروں نے متّفقہ طورپرٹورنٹ کے خلاف ایک محاذتیارکیا اوریہ طئے کیاکہ ۹۱جنوری کومتاثرہ علاقوں کومکمل بندکرتے ہوئے سرکاری فیصلے کے خلاف عوامی احتجاج درج کرانے کےلئے مذکورہ بالامتاثرہ علاقوں کے باشندے اپنے مقامی قائدین کیساتھ پارسِک بینک،کلواکے قریب ۰۹فٹ روڈپر جمع ہوکرسویرے دس بجے سے ایک ریلی کی شکل میں مارچ کرتے ہوئے کلکٹریٹ تک احتجاج کیا اورایک وفدنے سرکاری نمائندے کومیمورنڈم پیش کرتے ہوئے ٹورنٹ کی منسوخی کامطالبہ کیالیکن سرکارکی بے حسی کے سبب کُل جماعتی متّحدہ محاذکے صدردشرتھ پاٹل ،سماجی وسیاسی کارندوںنے۱۲جنوری سویرے سے ممبراریلوے اسٹیشن سے ملحقہ ایم گیٹ پر شہرمیں ٹورنٹ کی آمدکے خلاف مذکورہ بالا’ می مبرائیکر‘کی قیادت میں مقامی باشندوں نے اجتماعی طورپر بے مدّت بھوک ہڑتال کاآغازکیا جس میں مختلف سیاسی جماعتیں مثلاًکانگریس،شیوسینا،سماجوادی پارٹی اورمجلسِ اتّحادالمسلمین اورسماجی وفلاحی اداروں کے۸۱ عہدیداران واراکین نے حصّہ لیتے ہوئے سرکاری موقف کے خلاف محاذکھول کر ٹورنٹ کی منسوخی کے مطالبے پرڈٹ گئے ،اس دوران تین افرادکوناسازی¿ طبع کی بناپرممبراپولیس نے کلواکے شیواجی اسپتال میں داخل کروادیا،باقی ماندہ سبھی شرکائے احتجاج بھوک ہڑتال کرتے رہے اورکل رات صوبائی وزیرتوانائی باون کولے کے نمائندے کی حیثیت سے تھانے سے بی جے پی کے رکنِ اسمبلی سنجے کیلکرنے احتجاج گاہ پرپہنچ کرسرکاری موقف سے آگاہ کرواتے ہوئے شرکائے احتجاج کی بھوک ہڑتال ختم کروادی،اس موقعے پرادارے ’می مبرائیکر‘کے قائدرفیق مقادم نے معاملے کی بابت نمائندہ روزنامہ ممبئی اردونیوزکوبتایا”ہمارے ساتھی اورآگری سیناکے قائدانیل بھگت نے وزیرِتوانائی سے رابطہ قائم کرکے حالات سے آگاہ کیاتھا جس کی بدولت وزیرِتوانائی نے اپنے نمائندے کی حیثیت سےتھانے سے رکنِ اسمبلی سنجے کیلکرکی قیادت میں MSEDCLمحکمے سے ایک مشیروشواس پاٹھک کو ہم سے معاملات پرگفت وشنیدکےلئے ممبرابھیجا،اُن کی معرفت یہ طئے پایاہے کہ سرکاری مندوبین مذکورہ بالاعلاقوں میں نجکاری وٹورنٹ کی آمدکے متعلق عوامی رائے جاننے کےلئے ریفرنڈم منعقدکرکے اگلاقدم اُٹھایاجائے گا،چونکہ نجکاری کوفیصلے کابینہ کی منظوری سے لیاگیاہے لہٰذااتنی جلدی میں ٹورنٹ کی براہِ راست منسوخی ناممکن ہے اسکے لئے ریفرنڈم ہی آخری راہ ہے جس پرچل کرہی معاملات طئے پاسکتے ہیں اسلئے اس بات کوعام کیاجائے اورمناسب وقت پرٹورنٹ کے نمائندوں کیساتھ عوامی نظریات پرٹورنٹ کے نفاذیامنسوخی پرغوروخوض ہوگا“دانشورانِ قوم کے مطابق اگرنجکاری کافیصلہکابینہ میں ہواہے توہمارے نمائندے یقینااس فیصلے سے واقف وشریک رہے ہونگے اب یہی نمائندے نجکاری کے خلاف ٹسوے بہاکرعوام کے ہمدردبن کرعوام کومزیدگمراہ کررہے ہیں۔