ناندیڑ:(راست) جماعت اسلامی ہند ناندیڑ کی جانب سے”تم ہی سربلند رہو گے اگر تم مومن ہو“ اس عنوان سے ایک روزہ ضلعی اجتماع کا انعقاد کیا گیا۔اجتماع میں ہزاروں کی تعداد میں مرد و خواتین نے شرکت کی۔شرکاء کی رہنمائی کے لئے مہمان مقرر کی حیثیت سے جماعت اسلامی ہند حلقہ مہاراشٹر کے رکن شوری ڈاکٹر جاوید مکرم صدیقی،مولانا قوی فلاحی،محمد عبدالجلیل ایس آئی او کے سابق صدر تنظیم بردار سلمان احمد کو مدعو کیا گیا۔ مقامی ذمہ داران میں ناظم ضلع عبدالغفار چودھری مقامی امیر ریا ض الحسن عامر،مولانا آصف ندوی،ریا ض الدین صدیقی،ڈاکٹر نسرین احسن زبیری،مولانا شیخ صابر محمدی،عبدالحکیم نے بھی خطاب کیا۔
رضوان خان کی تذکیر بالقرآن سے اجتماع کا آغاز ہوا۔جس میں انہوں نے سورہ آل عمران کی 139 ویں آیت کی تلاوت و ترجمہ پیش کیا ساتھ ہی اس کی مختصر راً تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرماتاہے کہ کسی بھی طرح کے مشکل حالات میں دل شکستہ نہ ہو غم نہ کرو تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔مسلمانوں کوقرآن و حدیث کی تعلیمات پر عمل پیر اہوتے ہوئے اپنے اندر مومنانہ صفات پیدا کرنے کی نصیحت۔تذکیر باالقرآن کے بعد ناظم ضلع عبدالغفار چودھری نے افتتاحیہ کلمات کے تحت ضلعی اجتماع عام کے انعقاد کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ہندوستان کے مسلمانوں کو شدید آزمائشوں سے گذرنا پڑرہاہے۔کہیں ماب لنچنگ کے نام پر بے گناہوں کو قتل کیا جارہا ہے تو ہیں شریعت مخالف قوانین نافذ کرکے مسلمانوں کو پریشان کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔چھوٹے اور بے بنیاد الزامات کے تحت مسلم نوجوانوں کی بے جا گرفتاریوں کا بھی سلسلہ جاری ہے۔سماجی و ملی تنظیموں پر بھی غیر ضروری پابندیاں لگائی جارہی ہے۔
سی اے اے جیسا سیاہ قانون بناکر مسلمانوں کی شہریت کو مشکوک بنانے کی بھی کوششیں ہورہی ہے۔تاریخی مسجدوں کو بھی نشانہ بنایا جارہاہے۔بات بات پر مسلمانوں کی بستیوں پر بلڈوزر چلانے کی بھی کارروائیاں کی جارہی ہے۔ان تمام حالات میں مسلمان خود بے بس اور لاچار محسوس کررہاہے۔ایسے مشکل حالات میں مسلمانوں کو ڈرنے کا گھبرانے کی ضرورت نہیں بلکہ ہمت اور حوصلہ کے ساتھ اپنے دین و ایمان پر ثابت قدمی کے ساتھ جم جانا ہوگا۔آزمائشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ڈاکٹر جاوید مکرم صدیقی نے حالات کی سنگینی اور تعلق بااللہ و ضرورت کے عنوان سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج جو کچھ بھی سنگین حالات سے مسلمانوں کو سامنا کرنا پڑرہاہے۔یہ کوئی نئی بات نہیں ماضی میں اس سے زیادہ سخت حالات سے مسلمانوں کو گذرنا پڑاہے۔ان حالات میں ہمیں مایوس ہوکر بیٹھ جانے کی ضرور ت نہیں بلکہ اپنے اعمال کا احتساب کرتے ہوئے تعلق بااللہ کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔دنیا کی زندگی مختصر ہے۔ مختصر سی اس زندگی میں ایسے نیک اعمال کرنے ہونگے جس سے ہماری آخرت سنور جائے۔
محمد عبدالجلیل نے”اصلاح معاشرہ منصوبہ بند عصری تقاضے“ ا س عنوان پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج باطل طاقتیں نہایت منصوبہ بند انداز میں لوگوں کو گمراہ کرنے اور انہیں برائیوں میں مبتلا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔غیر محسوس طریقے سے لوگوں کو غلط عادتوں میں مبتلا کیا جارہاہے۔ایسے میں ہمیں اپنے دین و ایمان کی حفاظت کیلئے بہت حساس ہونے کی ضرورت ہے اور موبائل کے ذریعے پھیل رہی برائیوں سے بھی بچنے کی کوشش کرنا ہوگی۔سماج کی اصلاح کے لئے جلسے،خطابات جمعہ،اجتماعات اور دیگر کئی پروگرام لئے جاتے ہیں اس کے باوجود سماج میں وہ انقلابی تبدیلیاں نہیں آرہی ہے جو آنی چاہئے جبکہ برائیوں کو پھیلانے کیلئے منصوبہ بند انداز میں کوششیں کی جارہی ہے۔برادر سلمان احمد نے ملک و ملت کی تعمیر میں ہمارا کردار اس عنوان کے تحت 15 نکاتی پروگرام پیش کیا۔جس میں انہوں نے کہا کہ باطل طاقتیں مسلمانوں کو شدت پسند اور اشتعال انگیز بنانے کی کوشش کررہی ہے۔غیر ضروری مسائل میں مسلمانوں کو الجھانے کی کوشش کی جارہی ہے ایسے میں ہمیں بہت صبر وسکون کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔باطل طاقتوں کی سازشوں کو سمجھتے ہوئے انہیں ناکام بنانے کی کوشش کرنی ہوگی۔تعلیمی اور معاشی میدان میں آگے بڑھنے کی کوشش کرنی ہوگی ساتھ ہی سیاسی اعتبار سے بھی ہمیں اپنا ایک وجود بنانے کی فکرکرنا ہے۔امیر مقامی ریاض الحسن عامر نے”جماعت اسلامی ہند کے جدوجہد کے 75 سال“اس عنوان پر خطاب کرتے ہوئے ان 75 سالوں میں جماعت اسلامی ہند نے اسلام کی نشر و اشاعت کے لئے کن کن شعبوں میں نمایا خدمات انجام دیتے آرہی ہے ان کی ساری تفصیلات بیان کی۔اس دوران جماعت اسلامی ہند کو کن کن مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا اس کا بھی انہوں نے ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند اس ملک میں ایک منصوبہ انداز اور واضح دستور کولیکر کام کررہی ہے۔برداران وطن میں اسلام کی دعوت کو پہنچانے کیلئے قرآن مجید کے مختلف علاقائی زبانوں میں ترجمے کروائے گئے۔اسلام کے بارے میں پھیلانے جارہی غلط فہمیوں کو دور کرنے کیلئے لیٹریچر تیار کیا گیا۔لوگوں کو اسلام کے قریب لانے کے لئے اصلاح معاشرہ کے شعبے کے تحت کام کیا جاتاہے۔مسلمانوں کو سودی نظام سے بچانے کیلئے اور غیر سودی قرض کی فراہم کے لئے بلاسودی کریڈٹ کو آپریٹیو سوسائٹیاں قائم کی گئی۔طب کے شعبے میں خدمات انجام دینے کیلئے اسپتال قائم کئے گئے۔مولانا قوی فلاحی نے اختتامی خطاب میں کہا کہ مسلمانوں کو اپنا شاندار ماضی فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ہمیں ایسے ادارے بنانے ہونگے جہاں نہ صرف عصری تعلیم کا نظم ہو بلکہ طلبہ کو دینی شعور و فہم بھی دیاجاسکے انہیں سچا پکہ مسلمان بنایا جاسکے۔