ہریانہ کے کرنال ضلع میں 50 فٹ گہرے بورویل میں گری پانچ سال کی بچی شیوانی کی لاش کو 18 گھنٹے کے آپریشن کے بعد پیر کو این ڈی آر ایف کی ٹیم نے باہر نکالا۔ اس ناکام بچاؤ آپریشن کے بعد گزشتہ دنوں تمل ناڈو میں 2 سالہ سجیت کی یاد تازہ ہو گئی جسے تقریباً 80 گھنٹوں کی مشقت کے بعد بورویل سے نکالا تو گیا، لیکن اس وقت تک وہ موت کی نیند سو چکا تھا۔
#UPDATE Haryana: The 5-year-old girl who had fallen into a 50-feet deep borewell in Hari Singh Pura village of Karnal, has died. https://t.co/KWEgAHAVad
— ANI (@ANI) November 4, 2019
شیوانی کے تعلق سے پولس نے بتایا کہ وہ اتوار کو گھرونڈا بلاک کے ہری سنگھ پورا گاؤں میں اپنے گھر کے پاس کھیل رہی تھی۔ اسی دوران دوپہر تین بجے وہ بورویل میں گر گئی۔ اس کے گھر والوں نے ضلع انتظامیہ کو رات تقریباً 9 بجے اس کی خبر دی۔ واقعہ کی جانکاری ملتے ہی این ڈی آر ایف کی 37 رکنی ٹیم جائے وقوع پر پہنچی اور بورویل میں ایک پلاسٹک کا پائپ ڈالا گیا جس کے ذریعہ ایک تار کا ہک اس میں ڈالا گیا اور بچی کے پیر میں اسے پھنسا کر باہر نکالا گیا۔
ایک افسر کے مطابق بورویل میں گری بچی کو نکالے جانے کے فوراً بعد اسے کرنال کے کلپنا چاؤلہ سرکاری میڈیکل کالج لے جایا گیا، لیکن اسے وہاں مردہ قرار دے دیا گیا۔ بورویل بچی کے گھر کے پاس ہی تھا، جو کہ کئی مہینوں سے کھلا پڑا تھا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل منگل کو تمل ناڈو کے تروچیراپلی ضلع میں بورویل میں پھنسا دو سالہ بچہ سجیت کی لاش کو تقریباً 80 گھنٹوں کی مشقت کے بعد باہر نکالا گیا تھا، لیکن اس وقت تک وہ موت کی نیند سو چکا تھا۔ اس کے علاوہ اس سال کے شروع میں پنجاب کے سنگرور ضلع میں 150 فٹ گہرے بورویل سے ایک دو سال کے بچے کو چھ دنوں کی مشقت کے بعد مردہ حالت میں نکالا گیا تھا۔ بہر حال، 5 سالہ بچی کی موت کے بعد سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ ملک بھر میں کھلے بورویل بند کیے جانے کے سپریم کورٹ کے احکام کے باوجود بھی یہ بورویل 4 سال سے کھلا کیوں پڑا تھا۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
