اسرائیل اور ترکی نے بدھ کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مکمل طور پر بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔اسرائیلی وزیرِ اعظم یائیر کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک اعلان کے مطابق تعلقات کی مکمل بحالی کے معاہدے میں تل ابیب اور انقرہ میں سفارتکار واپس بھیجنا بھی شامل ہے۔
بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ ترکی کے ساتھ تعلقات کی تجدید اسرائیلی عوام کے لیے ایک اہم اقتصادی اثاثہ ہے۔’یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل اور ترکی کے درمیان مکمل سفارتی نمائندگی کی سطح کے تعلقات دوبارہ بحال کیے جائیں اور دونوں ممالک کے سفیر اور قونصل جنرلز کو واپس بھیجا جائے۔‘تاہم ترکی نے کہا ہے کہ سفارتی تعلقات کی بحالی کے فیصلے کا یہ مطلب بالکل نہیں ہے کہ انقرہ نے فلسطینیوں کی حمایت کرنا بند کر دیا ہے۔ترکی کے وزیرِ خارجہ میولت کاسوگلو نے بدھ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم فلسطینیوں کی حمایت سے دستبردار نہیں ہو رہے۔‘انھوں نے کہا کہ ’ہمارے لیے اہم ہے کہ یہ پیغام سفیر کے ذریعے براہ راست پہنچے۔‘
یاد رہے کہ رواں سال مارچ میں ترک صدر رجب طیب اردوغان کی دعوت پر اسرائیلی صدر آئزک ہیزروگ ترکی کے دو روزہ دورے پر دارالحکومت انقرہ آئے تھے۔ہیزروگ سنہ 2008 کے بعد پہلے اسرائیلی رہنما تھے جنھوں نے ترکی کا دورہ کیا۔ اردوغان نے جولائی میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے ہیزروگ سے چار مرتبہ فون پر بات کی تھی جسے اسرائیلی میڈیا کی جانب سے تعلقات میں ایک خوشگوار پیش رفت قرار دیا گیا تھا۔اسرائیلی صدر نے دورے سے قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کا دورہ ’اسرائیل، ترکی اور تمام خطے کے لیے اہم ہیں۔‘ہیرزوگ نے دورے سے قبل اسرائیلی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس دورے پر ہونے والی تمام باتوں پر اتفاق نہیں کریں گے۔ ’حالیہ برسوں میں ہمارے تعلقات میں اتار چڑھاؤ آیا ہے، ہم اس رشتے کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔‘