محمداشفاق احمدصاحب نہیں رہے!
آج صبح اورنگ آباد میں جناب محمد اشفاق احمد صاحب انتقال فرما گئے.انا للہ وانا الیہ راجعون۔اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے، پسماندگان کو صبر اور جماعت اسلامی ہند کو انکا نعم البدل بخشے. آمین۔مرحوم کے انتقال پر انجینئر توفیق اسلم خان صاحب، امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند مہارشٹر نے ایک بیان میں کہا کہ”مرحوم نے اپنی پوری زندگی اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے جماعت اسلامی ہند کی خدمت میں لگا دی“.انکی عمر68 سال تھی۔انہوں نے نوجوانی میں ہی جماعت اسلامی ہندکی رکنیت اختیار کرلی تھی۔اور علاقہ اورنگ آبادکی اسلام پسند طلبہ تحریک سے وابستہ ہو گئے تھے۔ 1982 ?ئ میں جماعت اسلامی ہند کی تحریک پر جب مختلف طلبہ تنظیمیں مل کر SIO بنی تو وہ بھی اس میں شامل ہو گئے اور ریٹائر ہونے سے قبل اس کے دوسرے کل ہند صدر منتخب ہوئے.تعلیمی قابلیت کی بنا پر مرحوم 26سال تک جماعت اسلامی ہند کے شعبہ تعلیم کے سکریٹری رہے. انہوں نے مرکزی مکتبہئ اسلامی سے مطبوعہ تمام نصابی کتابوں پر نظر ثانی کی اور ان کو نئے انداز سے مرتب کیا.آپ الحرا ایجوکیشن اینڈ ویلیفئیر سوسائٹی اورنگ آباد کے بانی و صدر تھے۔حکومت اور دیگر اداروں سے شائع ہونے والے مخالف اسلام مواد پر بھی مرحوم کڑی نظر رکھتے تھے.محمد اشفاق احمد صاحب نے پورے ملک کے دورے کیے اور ہزاروں اساتذہ کی اسلامی خطوط پر تربیت کی. مرحوم کو سب محبت و عقیدت سے مربیِ محترم کہتے تھے.مرکز جماعت کی ذمہ داری سے سبکدوش ہوکر اورنگ آباد مہاراشٹر لوٹ آئے تھے۔ عمر کے آخری پڑاو¿ میں کچھ ا مراض لاحق ہونے کی وجہ سے وہ کافی کمزور ہو گئے تھے.لیکن علالت کے باوجود اساتذہ کی تربیت کے لیے ریاست میں دورے کرتے رہے.اور ابھی 14 اکتوبر 2018کوہی اورنگ آباد میں منعقدہ شعبہ تعلیم جماعت اسلامی ہند مہاراشٹر کے ایک روزہ ریاستی صدور مدرسین اور اسکول انتظامیہ کے ورک شاپ میں آپ نے شرکت کی اور مندوبین کی رہنمائی بھی فرمائی۔ آج صبح تھوڑی سی طبعیت کی ناسازی کے بعد حرکت قلب بند ہو جانے سے آپ اس دارے فانی سے کوچ کر گئے۔ان کے انتقال سے ان کے خاندان کا ہی نہیں بلکہ ملک وملت اور تحریک اسلامی کا بھی بہت بڑا نقصان ہوا ہے.
اللہ تعالیٰ مرحوم کو اعلٰی علیین میں بلند درجات عطا فرمائے. آمین”
توفیق اسلم خان‘ امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند مہارشٹر
……………………………………….
محترم اشفاق احمد صاحب نہیں رہے
کچھ دیر پہلے ہی خبر ملی کہ جماعت کے ایک بہت ہی فعال قائد اور سابق سکریٹی تعلیمات جناب اشفاق احمد صاحب اورنگ آباد اچانک کر گئے.انا للہ و انا الیہ راجعون۔مرحوم سے میرے روابط پچھلے بیس سال سے تھے. وہ فیروس ایجوکیشنل فاونڈیشن کے پروگراموں میں بلاے جاتے تھے. ایک مخلص، محنتی اور سادہ مزاج انسان جس سے مل کر خدا یاد آجائے. خاکساری اور محبت ہر عمل سے نمایاں رہتی تھی. مشورہ چاہے کوئی چھوٹا اور کم عمر بھی دے بہت غور سے سنتے اور قبول بھی کر لیتے.میرا یہ ایک طرح سے ذاتی نقصان بھی ہے، موصوف کو جب بھی اپنی کوئی کتاب دیتا وہ بہت حوصلہ افزائی کرتے اور مزید لکھنے کے لیے مہمیز کرے.
اللہ ان کی خدمات کو قبول کرے اور جنت کی دائمی نعمتوں سے حصہ وافر دے. آمین
٭اخترسلطان اصلاحی
……………………………………….
افسوس ، ‘اورنگ آباد کا زندہ پیرنہیں رہا!
افسوس ، ‘اورنگ آباد کا زندہ پیر ‘(جناب اشفاق احمد ، سابق سکریٹری ،شعبہ تعلیم ، جماعت اسلامی ہند) بھی ہمیں داغ مفارقت دے گئے – اللہ تعالی ان کی خدمات کو قبول کرے اور انکو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے –
دو برس قبل ان پر ایک تحریر لکھی تھی وہ ذیل میں پیش ہے:
اورنگ آباد کا زندہ پیر : اورنگ آباد بزرگوں، اولیاء ، علماءو فضلاءاور پیروں فقیروں کی سرزمین ہے ۔محمد تغلق نے جب ہندوستان کا دار الحکومت دہلی سے دولت آباد منتقل کرنا چاہا تھا تو اپنے ساتھ بہت سے علمائ اور اصحاب فضل و کمال کو بھی لایا تھا، جو مستقل یہیں بس گئے تھے _چنانچہ اس علاقے میں ہزاروں مقبرے اور درگاہیں پائی جاتی ہیں ۔ یہ سارے پیر عہدِ ماضی کی یادگار ہیں، لیکن مجھے اپنے سفرِ اورنگ آباد میں ایک زندہ پیر مل گیا، جس کی بہت سی کرامات کا بھی مشاہدہ ہواوہ پیر ہیں جناب محمد اشفاق احمد صاحب، سابق مرکزی سکریٹری، شعبہ تعلیمات جماعت اسلامی ہند۔
میں اپنے گزشتہ سفرِ اورنگ آباد میں وہاں کے تاریخی مقامات کی سیاحت نہیں کرپایا تھااس کا اشفاق صاحب کو علم تھا، چنانچہ انھوں نے، باوجود یہ کہ ٹکٹ اورنگ آباد تک کا تھا، یہ پروگرام بنادیا کہ راستے میں اتر کر اجنتا کے غاروں کی سیاحت کرلی جائےاشفاق صاحب خود تو اورنگ آباد چلے گئے، ہمیں (راقم اور مولانا انعام اللہ فلاحی) جلگاوں میں برادر ساجد دیشمکھ کے حوالے کردیااجنتا کے غار جلگاوں سے قریب ہیں _ بھائی ساجد نے ایک کار کا نظم کردیا _ ہم اجنتا کے قریبی گاو¿ں فردا پور پہنچے تو وہاں کے امیر مقامی جناب علیم قادری صاحب کو منتظر پایاوہ بڑی محبت سے ملے اور اجنتا کی سیاحت کے دوران برابر ساتھ رہے ان کی وہاں کے آفیسرس، اسٹاف، ملازمین، گائیڈ، سب سے اچھی شناسائی تھی، اس لیے ہمیں کہیں بھی ٹکٹ نہیں خریدنا پڑا اور گائڈ نے مفت میں قاعدے سے گھمایا بھی _ بھائی علیم ہمیں اپنے گھر بھی لے گئے اور دوپہر کا کھانا بھی کھلایا۔ رات میں بذریعہ کار ہم خلد آباد پہنچے تو اشفاق صاحب نے اگلا پروگرام طے کردیا تھا کہ صبح میٹنگ شروع ہونے سے قبل ہم ایلورا کے غاروں کی بھی سیاحت کرلیں، جو وہاں سے صرف 4 کلومیٹر کے فاصلے پر تھے۔ دوسرے دن میٹنگ ختم ہونے کے بعد ہمیں اورنگ آباد جانا تھااشفاق صاحب نے پروگرام یوں ترتیب دیا کہ راستے میں ہم دولت آباد کے قلعہ کی سیاحت کر لیں اور اورنگ آباد پہنچ کر بی بی کا مقبرہ بھی دیکھ لیں۔ آخری دن انھوں نے حرا سوسائٹی کے اسکولوں کا معائنہ کروایایہ معاینہ کم، ہم لوگوں کی عزّت افزائی زیادہ تھیہر جگہ ہمیں پھولوں کے گل دستے پیش کیے گئے اور شالیں اوڑھائی گئیںیہ دیکھ کر ہمیں غلط فہمی ہونے لگی کہ ہم VIP مہمان ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ اشفاق صاحب سے تمام لوگ بہت محبت کرتے ہیں، کیا بوڑھے، کیا نوجوان، کیا بچے، کیا جماعت کے ارکان و کارکنان، کیا SIO کے نوجوان، سب سے وہ گھل مل جاتے ہیں، ان کے احوال دریافت کرتے ہیں، ان کے مسائل سنتے ہیں اور انھیں مفید مشورے دیتے ہیںحرا سوسائٹی کے وہ بانی صدر ہیںچنانچہ اس کے اسکولوں کی انتظامیہ اور اسٹاف کے لوگ بھی ان سے بہت محبت کرتے ہیں ہم نے دیکھا کہ اسکول کے ایک ہال کو ان سے منسوب کرکے اس کا نام ‘اشفاق احمد ہال’ رکھا گیا ہے۔ چند ایام قبل دہلی کی ایک بڑی NGO ‘درس گاہ بہادر شاہ ظفر’ نے تعلیم کے میدان میں اشفاق صاحب کی خدمات کے اعتراف میں انھیں ایوارڈ سے نوازا تھا _ میں نے ٹرین میں بیٹھے بیٹھے اس کی خبر اپنے فیس بک پر ڈال دی تھی، جس سے اورنگ آباد کے تحریکی حلقے کو اس کا علم ہوگیا تھا_ چنانچہ ہم جہاں پہنچتے، وہاں انھیں اس کی مبارک باد دی جاتیاقرا اسکول میں انھیں یہ اعزاز ملنے کی خوشی میں گل دستہ پیش کیا گیا اور شال اوڑھائی گئی۔ اورنگ آباد پہنچتے ہی اشفاق صاحب نے رات میں ہماری دعوت کے، حالاں کہ گھر پر صرف ان کی اہلیہ تھیں اور ہمیں بعد میں معلوم ہوا کہ ان کی طبیعت خراب تھیاشفاق صاحب برابر ہمارے ساتھ رہے، یہاں تک کہ ہمارے منع کرنے کے باوجود ہمیں اسٹیشن چھوڑنے آئے اور جب تک ٹرین رینگنے نہیں لگی، وہ برابر ساتھ رہے۔
صحیح کہا گیا ہے :سَیِّد± القَومِ خادِم±ھ±م (قوم کا سردار حقیقت میں وہ ہے جو افرادِ قوم کی خدمت کرے) لوگوں کی خدمت کرکے اور ان کے کام آ کر ہی ان کی محبت حاصل کی جاسکتی ہے_
٭محمد رضی الاسلام ندوی
……………………………………….
جناب محمداشفاق احمد کے انتقال پُر ملال خبر نے مجھے مغموم کردیا ۔مرحوم میرے کرم فرماءتھے جب بھی ملتے بڑے تپاک اور اخلاص سے ملتے تھے ۔ گھنٹوں بات کرتے تھے ۔مجھ سے عمر میں چارپانچ سال چھوٹے تھے ۔ انکی علمیت سے میں بے حد متاثر تھا ۔ وہ بڑے شفاق دل انسانن تھے ۔ بہت اچھے مقرر تھے ۔ مدلل اندا ز میں اپنی بات پیش کرنے کاہنر جانتے تھے ۔جماعت اسلامی ہند کے بڑے بڑے عہدوں پروہ فائز رہے اورتمام عمر اقامت دین کا کار ِ عظٰیم جماعت کے مختلف شعبوں کے ذریعہ کرتے رہے ۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ان کی خدمات کی ملّت کو ابھی بہت ضرورت تھی ۔ان جیسے مخلص خادم دین کی کمی برسوں تک محسوس کی جائے گی ۔ اللہ رب العزت انکی دینی خدمات کوقبول کرے ان کے درجات کو بلند کرے اور متعلقین کو صبروتحمل سے نوازے ۔ آمین
ڈاکٹر فہیم احمد صدیقی ‘ناندیڑ
……………………………………….
”اشفاق احمد“ملّت کے تعلیمی کارواں کے ایک سپہ سالار تھے
مولانا اشفاق صاحب اورنگ آباد کو اللہ تعالی غریق رحمت کرے۔ کیسی سخن دل نواز اور جاں پرسوز شخصیت تھی۔ دنیا چھوڑ اپنے رب کے پاس گئے تو گھر کے دو پانچ افراد کو نہیں ملک کے ہزاروں افراد کو لگا کہ ہمارا اپنا چلا گیا۔ اپنا بنانے اور اپنائیت نبھانے کے لئے درکار بڑا دل مولانا کے سینے میں دھڑکتا تھا۔ یہ پاک دل و پاک باز شخصیت تھی تو جماعت اسلامی ہند سے وابستہ لیکن سچی بات یہ ملت کا تعلیمی کاراواں کے سپہ سالاروں میں ایک نمایاں ترین شخص تھے۔ اللہ آپ کی مغفرت فرماے اور جنت میں اعلی درجات عطا کرے ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔ آمین۔ا س طرح کاتعزیتی بیان جناب عبدالجلیل ‘امیر مقامی جماعت اسلامی ہند نا ندیڑنے دیا ہے ۔
امیر جماعت اسلامی عبدالجلیل ‘ناندیڑ
امیر جماعت اسلامی عبدالجلیل ‘ناندیڑ