نئی دہلی۔کورونا وائرس کی وجہ سے ہندوستان کے حالات لگاتار خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ تبلیغی جماعت مرکز میں ہوئے جلسہ کی بات سامنے آنے کے بعد تو کورونا انفیکشن نے ملک میں مذہبی منافرت کا ماحول بھی پیدا کر دیا ہے۔ ملک کے کئی علاقوں میں اقلیتی طبقہ کے تئیں غلط سلوک کی خبریں سامنے آ رہی ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی غلط خبریں پھیلا کر کچھ سماج دشمن عناصر فرقہ پرستی کا بیج بو رہے ہیں۔ اس درمیان ہندوستان کی راجدھانی دہلی میں اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے 22 سالہ نوجوان کوزبردست مارپیٹ کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق، اس سے پہلے پولیس نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی سے نوجوان کی موت کی بات کہی تھی ۔ حالاں کہ پولیس نے بتایا ہے کہ نوجوان زندہ ہے او ر اس کا علاج چل رہا ہے۔
ہندی نیوز پورٹل ‘نیوز18’ پر شائع خبر کے مطابق دہلی کے بوانا میں کورونا وائرس پھیلانے کی سازش تیار کرنے کے شک میں کچھ لوگوں نے محبوب علی کی بے رحمی سے پٹائی کر دی جس کی وجہ سے وہ موت کی نیند سو گیا۔ پولس نے اس سلسلے میں بدھ کو جانکاری دی۔ ایک پولس افسر نے بتایا کہ محبوب علی بوانا کے ہریولی گاؤں میں رہتا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ محبوب علی تبلیغی جماعت کے ایک پروگرام کے لیے مدھیہ پردیش کے بھوپال گیا تھا اور 45 دنوں کے بعد سبزیوں کے ایک ٹرک میں بیٹھ کر دہلی واپس آیا۔
محبوب علی کے تعلق سے پولس نے بتایا کہ وہ جب بھوپال سے واپس آیا تو اسے آزاد پور سبزی منڈی سے پکڑا گیا تھا، لیکن ڈاکٹری جانچ کے بعد اسے چھوڑ دیا گیا تھا۔ پولس کا کہنا ہے کہ جب وہ اپنے گاؤں پہنچا تو افواہ پھیل گئی کہ محبوب علی کورونا انفیکشن پھیلانے کی سازش تیار کر رہا ہے۔ اسی افواہ کی وجہ سے کچھ لوگوں نے بری طرح سے اسے پیٹا جس میں وہ ادھ مرا ہوگیا ہے ۔
ایک سینئر پولس افسر کا کہنا ہے کہ گزشتہ اتوار کے روز کھیتوں میں لے جا کر کچھ لوگوں نے محبوب علی کی پٹائی کر دی تھی۔ زخمی حالت میں اسے اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا ۔ اس سلسلے میں پولس نے معاملہ درج کر لیا ہے اور تین لوگوں کی گرفتاری بھی عمل میں آئی ہے۔