تائپی17 مئی [یو این آئی] تائیوان پہلا ایشیائی ملک بن گیا جہاں پارلیمنٹ نے دو ہم جنسوں کو شادی کرنے کی اجازت دیدی۔
2017 میں ملک کی آئینی عدالت نے یہ فیصلہ سنایا تھا کہ ایک ہی جنس کے جوڑے کو قانونی طور پر شادی کرنے کا حق ہے۔پارلیمنٹ کو دو سال کی مدت میں اس حوالے سے 24 مئی تک فیصلے کے لئے ضابطے میں لازمی تبدیلی کرنے کی مہلت دی گئی تھی۔
قانون سازوں نے ایک ہی جنس کی آپس میں شادی کو قانونی بنانے پر تین مختلف بلوں پر بحث کے بعد جس میں حکومت کا بل بھی شامل تھا، تینوں میں سے سب سے زیادہ ترقی پسند بل منظور کر لیا ۔ قدامت پسند قانون سازوں کے ذریعہ پیش کردہ دو نوں بلوں میں ہم جنسوں میں "شادی” کے بجائے شراکت داریوں کو ترجیح دی گئی تھی۔
سرکاری بل 27 کے مقابلے میں 66 ووٹوں سے منظور کر لیا گیا۔حالانکہ اس میں بھی شادی کی اجازت کے باوجود ہم جنس پرستوں کے اختیارات محدود رکھے گئے ہیں۔ صدر کی منظوری کے بعد متعلقہ قانون نافذ ہو جائے گا۔