شرف الدین عبد الرحمان تیمی
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ شاعر سماج و معاشرہ کا آئینہ ہوتا ہے اور یہ اپنے سماج و معاشرہ اور ملکی و عالمی حالات و کوائف کو الفاظ و تعبیرات کے صنم خانے میں ڈال کر ان کی ایسی ہی کشی کرتا ہے جیسا کہ آئینہ اپنے سامنے آنے والی ہر شئی ہر تکلف سے بری تصویر پیش کر دیتا ہے ۔خاکسار کو دنیا ے شعر و شاعری سے بچپن ہی سے تعلق خاطر رہا ہے اور اس تعلق کو بر قرار رکھنے کی راہ میں نئے پرانے بہت سارے شعراء و شاعرات کو پڑھا اور موجودہ دور کے بہت کہنہ مشق اور مشہور عالم ،شعراء و شاعرات کو پڑھا بھی اس مشاہدہ و مطالعہ کی روشنی میں یہ کہ سکتا ہو ں کہ ان میں سے کئی شعرا ء و شاعرات اچھی بہت بلکہ بہت اچھی شاعری کر رہے ہیںاور اپنے خلوص و صفا کی زمین پر اردو ادب کی لہلہاتی کھیتی کر رہے ہیں جس کی سرسبزی وشادابی نگاہ و دل کو مسحور کرتی ہے ۔سماج و معاشرہ کے ان ترجمانوں کو جاننے ،ان کی شاعری سے معرفت و وجدان کے موتی چننے کی دو صورتیں ،ان کے مجموعہ ہائے کلام زبانی سننا کل بھی تھی آج بھی ہے اور شاید قیامت تک رہیں گی ۔جہاں تک سوال ہے ان کے مجموعہ ہائے کلام کے مطالعے کا تو ظاہر ہے ان میں موجود رطب و یابس ہر اردو ادب کے دیوانے کے سامنے ہوتا ہے ۔لیکن مشاعرے کی بات الگ ہوتی ہے ۔
مشاعرے کے انعقاد کا بنیادی مقصد اردو ادب کی ترویج و اشاعت ہو ا کرتا ہے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ ادب کی ترویج و اشاعت کے نام پر قوم و ملت کے پیسوں کا ضیاع اور اردو ادب کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا جاتا رہا ہے ۔آج کل مشاعرے کی دنیا میں ایسے ایسے شعراء و شاعرات قدم رنجہ ہو گئے ہیں جنہیں نہ قافیہ سے شناسائی ہے اور نا ہی ردیف کی معلومات ہے ،بحر و وزن کی بات تو درکنار تذکیر و تانیث کے مابین تمیز کرنے سے بھی عاجز و قاصر نظر آتے ہیں ،تاہم اب جا کر مشاعرے کی دنیا بھی بدلی ہے ،اس دنیا میں بھی انقلاب آیا اور شور مچا ہے اور یہ تب ہوا ہے جب سے الہ باد کی سرزمین سے قوم و ملت کے روح ،نوجوانوں کے دلوں کی دھڑکن ،غریبوں کا مسیحا ،بے کسوں اور کمزوروں کی آواز ،قوم و ملت کا بے لو ث خادم ،آہیں بھرتی ماوں کے سہارا ،بے بس بہنوں کا غم خوار ،بیواہ عورتوں کی پکار ،صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ اغیار کا بھی مسیحا ،مشاعرے کی دنیا کا بے تاج بادشاہ ،خوبرو و خوب سیرت ،دل کے رشتے روح میں اتر جانے والا لحن و گلوں رکھنے والا یعنی شیریں کلام و شیریں صدا ، عالمی شہرت یافتہ شخصیت کا مالک ایک شاعر ،مشاعرے کی دنیا میں پورے سحر آفرینی اور آب وتاب کے ساتھ ،ستارے کی مانند ابھر کر ماہ تمام بنا ہے ،بیشک ،اس کا نام نامی ہے :عمران پرتاپ گڑھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عمران پرتاپ گڑھی ۔۔۔۔۔۔عمران پرتاپ گڑھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
عمران کی آمد کیا ہوئی مشاعرے کی دنیا میں بھونچال آگیا اور اس میدان میں قدم رنجہ افراد کو محسوس ہو گیا کہ شعر و شاعری کا مطلب زلف و کاکل ،محبوب کی اداوں کی نقشہ گری اور دل میں انگڑائی لے رہے احساسات و جذبات الفاظ و جمل کا جامہ پہنا کر گنگنا کر دلوں کو تسکین پہچانے کا نام نہیں بلکہ شاعری کا مطلب یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعے مظلوم ،بے کس ،مجبور اورلاچار افرا دکی ترجمانی کی جا سکتی ہے ،ماں کی ممتااور بیواہ بہنوں کے دکھ درد کو شاعری کی شکل دی جاسکتی ہے ،شاعری کے ذریعہ حق و باطل کے درمیان چل رہی کشمکش کو مٹایا جا سکتا ہے ،ملکی و عالمی سطح پر ہو رہے حکومت وقت کی جانب سے ظلم و ستم کے خلاف آواز بلند کیا جاسکتی ہے ۔
عمرا ن نے مشاعرے کی قدیم روایات کے بندھن کو توڑا اور ایک نئی دنیا بنائی اور اپنی شعر و شاعری سے یہ ثابت کر دیا کہ مشاعرہ صرف لطف اندوزی اور زبان وبیان کے چٹخارے کا نام نہیں ،بلکہ یہ قوم و ملت کے دکھ درد کی ترجمانی کا ایک اہم وسیلہ بھی ہے ۔مشاعرے کی دنیا میں عمران کی آمد نے یہ ثابت کر دیا کہ جو شہرت ،عظمت اور وقار بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہونے کے بعد بھی نہیں ملتی ،وہ مشاعروں کی دنیا دے سکتی ہے ۔ اس تیس سالہ نوجوان کی شہرت اور مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ جہاں بھی جاتے ہیں سینکڑوں نوجوان ،بچے ،بوڑھے ،عورت مرد غرض یہ کہ سب کے سب بغیر کسی امتیاز کے استقبال کے لئے پھولوں کا ہار اور گلدستہ لئے قطاریں لگائے کھڑے رہتے ہیں اور بڑے ہی پر جوش انداز میں والہانہ استقبال کرتے ہیں جس کی مثال اس سے قبل مشاعرے کی دنیا میں نہ ملی اور نہ ہی مستقبل قریب میں ملنے کی امید کی جا سکتی ہے ۔
عمران پر تاپ گڑھی صرف ایک شاعر ہی نہیں بلکہ ایک ستودہ صفات انسان بھی ہیں ۔انہوں نے ایسی سینکڑوں مثالیں پیش کی ہیں جسے ایک شاعر اس سے پہلے کبھی نہ انجام دیا تھا اور نہ ہی کسی شاعر کے اندر اس طر ح کی سوچ اور نہ ہی خدمت خلق کا جذ بہ پایا جاتا تھا ، خدمت خلق کے تئیں آپ نے ایسا ایسا کارنامہ انجام دیا ہے جسے آنے والی نسلیں کبھی فراموش نہیں کر سکتیں ۔سوشل میڈیا سے وابستہ افراد اس بات سے خوب آشنا ہے کہ قوم وملت کا ایک باصلاحیت خوبصورت نوجوان نجیب جب ملک کی مایہ ناز یونیورسٹی جسے جے این یو سے غائب کر دیا گیا تو عمران نے اس کی تلاش کے لئے اپنی پوری طاقت جھونک دی اور پھر ایک ماں کی آہ و پکار کو نظم کی شکل دے کر پوری دنیا میں ایسے پڑھا جس سے لگا کہ واقعی عمران کا کوئی قریبی رشتہ دار گم ہوگیا ہے ۔گئو کشی کے نام پر اخلاق کی موت ہوئی توآپ وہاں پر بھی ایک بوڑھی ماں کا سہارا بن کر سامنے آئے اور اپنے بساط بھر ان کا تعاون کیا ،منہاج انصاری کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا گیا تو وہاں بھی عمران نے اسے اپنی اخلاقی ذمہ داری سمجھی اور ایک بیواہ کے زیر سایہ تین سے چار بچوں کی پڑھائی کی ذمہ داری اپنے سر لے لی ،آٹھ سالہ آصفہ کی عصمت دری کا واقعہ پیش آیا تو وہاں بھی آپ نے اسے نظم کی شکل دے کر صدائے احتجاج بلند کی اور دو بجے رات میں دلی کے انڈیا گیٹ پر راہل گاندھی کے ساتھ قندیل مارچ میں شامل ہوئے ،کچھ دنوں قبل بہار کے ارریہ ،پورنیہ ،کشن گنج میں سیلاب سے مچی تباہی کے بعد اپنی پوری ٹیم کے ساتھ سامان راحت کا ری لے کر حاضر ہوئے ۔یہ وہ چند مثالیں ہیں جنہیں میں نے بطور مثال ذکر کیا ،حالانکہ اس کے علاوہ اور ڈھیر ساری مثالیں موجود ہیں جنہیں آنے والی نسلیں کتابوں کے اندر جلی حروف میں درج کریں گی ۔
ابھی یہ کائنات اپنی زندگی کے شغل خانے میں نو آموز ہے لیکن اس کی اسی نو آموزی میں صلابت و پختگی کے وہ آثار نمایاں نظر آتے ہیں جن کو دیکھ اور محسوس کرکے پورے وثوق کے ساتھ کہا جا سکتا ہے اگر اس کی زندگی نے وفا کی تو بہت سارے معجزات کا ظہور ان کے ادبی اور انسانی اعمال سے ہوگا ۔اللہ کرے ،ان کی شاعری کی چمک کبھی ماند نہ پڑے ،ان کا جذبہ خدمت خلق کبھی سرد نہ ہو اور صحت و عافیت ان کی ہمیشہ ہم عناں رہے !
ایں دعا زمن و جملہ جہانیاں است!!!!!!!