بی جے پی کے "سیاہ قانون” کی مخالفت میں اپنے گھروں پر ترنگا لہرائیں: اسد اویسی کا دارالسلام میں خطاب

سی اے اے پر اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا ، "جو کوئی بھی شہری کے قومی رجسٹر (این آر سی) اور شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف ہے انھیں اپنے گھروں کے باہر ترنگا لہرانا چاہئے۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی نے ہفتہ کے روز شہریت (ترمیمی) ایکٹ ، 2019 اور نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی) کی مخالفت میں اپنے گھروں کے باہر ترنگا لہرانے کی اپیل کی تاکہ بی جے پی کے "سیاہ قانون” پر اپنا احتجاج درج کروا سکیں.

شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف ہفتہ کی شب کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے ہیڈ کوارٹرس دارالسلام حیدرآباد میں بڑے پیمانہ پر جلسہ کا اہتمام کیا گیا جس سے مختلف تنظیموں کے ذمہ داروں نے خطاب کیا۔ *حیدرآباد میں احتجاجی جلسہ: جامعہ کی طالبات لدیدا فرزانہ اور عائشہ رینا مرکز توجہ

"جو بھی شہریوں کے قومی رجسٹر (این آر سی) اور شہریت (ترمیمی) ایکٹ (سی اے اے) کے خلاف ہے اسے اپنے گھروں کے باہر ترنگا لہرانا چاہئے۔ اس سے بی جے پی کو پیغام جائے گا کہ انہوں نے غلط اور ‘کالا’ قانون بنایا ہے ،” اویسی نے حیدرآباد کے دارسلام میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔

اویسی کے جلسے میں جمع ہوئے لوگوں نے آئین کو بھی پڑھا۔اسدالدین اویسی نے لوگوں کو امن برقرار رکھنے اور ایکٹ کے خلاف عدم تشدد احتجاج کرنے کی بھی تاکید کی۔

انہوں نے کہا ، "یہ لڑائی صرف مسلمانوں کی نہیں ہے ، دلت ، ایس سی اور ایس ٹی کی بھی ہے… میں غدار کیوں ہوں؟ جبکہ میں پیدائشی ہی نہیں بلکہ اپنی پسند سے ہندوستانی ہوں۔” انہوں نے عوام سے ‘آئین کو بچانے’ کے لئے کہا۔

شہریت (ترمیمی) ایکٹ ، 2019 ، پاکستان ، افغانستان اور بنگلہ دیش سے مذہبی ظلم و ستم سے فرار ہونے والے ہندوؤں ، سکھوں ، جینوں ، پارسیوں ، بدھسٹوں اور عیسائیوں کو شہریت دیتا ہے اور جو 31 دسمبر 2014 کو یا اس سے پہلے ہندوستان آیا تھا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading