جے پور، 21 جون (یو این آئی) راجستھان میں سابقہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت میں اسکولی نصاب اپنی پارٹی کے نظریات کے مطابق بنانے کی وجہ سے 170 کروڑ روپے کی کتابیں کانگریس حکومت میں بیکار ہو گئی ہیں۔
وزیر تعلیم گوبند سنگھ ڈوٹاسرا نے آج یہاں پنک سٹی پریس کلب میں نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہا کہ بی جے پی حکومت میں اسکولی نصاب کو بھگوا شکل دے کر طالب علموں پر مسلط کرنے کی کوشش کی ہے اور 170 کروڑ روپے کی اسکولی کتابیں شائع کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ طالب علموں کو بھگوا یجنڈے کی کتابیں پڑھوانا مناسب نہیں ہے لہذا یہ تمام کتابیں اب بیکار ہو گئی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت میں بچیوں کو دی جانے والی سائیکلوں کا رنگ بھگوا کرنے پر آٹھ کروڑ روپے کا اضافی خرچہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ رنگ بھگوا نہیں بلکہ زعفرانی تھا لیکن اسے بھگوا رنگ کے طور پرمشہور کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ کانگریسی حکومت نصاب کو سیاسی نظریہ کی بنیاد پر تیار نہیں کرے گی اور شہیدوں کی شجاعت کو بھی نصاب کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ آنے والی نسل اس کو پڑھ کر ترغیب لے سکیں ۔مسٹر ڈوٹاسرا نے عام آدمی کے لئے انگریزی ذریعے تعلیم فراہم کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی کی 150 ویں یوم پیدائش کے سال کے موقع پر تمام ضلع ہیڈ کواٹر پر ایک ایک انگریزی ذریعے اسکول شروع کیا ہے تاکہ غریب کے بچے کو بھی انگریزی میڈیم تعلیم کا فائدہ حاصل کر سکے۔