بی جے پی مہایوتی حکومت کی کسان قرض معافی محض کھوکھلا وعدہ: ہرش وردھن سپکال

بی جے پی مہایوتی حکومت کی کسان قرض معافی محض کھوکھلا وعدہ: ہرش وردھن سپکال

کسانوں کا 7/12 مکمل طور پر کلیئر کیا جائے اور فصلوں کو ایم ایس پی دی جائے

فڑنویس حکومت مہاراشٹر دھرم اور آئینی اقدار کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گولوالکر کے نظریات پر مسلط کر رہی ہے

ممبئی/تلجا پور: کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے بی جے پی مہایوتی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ کسان قرض معافی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے محض ’کھوکھلے وعدوں کا مجموعہ‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جب تک کسانوں کو عملی طور پر قرض معافی کا فائدہ نہیں ملتا، اس وقت تک ایسے اعلانات حقیقت نہیں سمجھے جا سکتے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کسانوں کے زمین ریکارڈ یعنی 7/12 کو مکمل طور پر کلیئر کیا جائے اور ان کی فصلوں کو کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) فراہم کی جائے۔

ہرش وردھن سپکال نے یہ باتیں کسان سنگھرش نیائے یاترا کے دوران کہیں ہیں۔ یہ یاترا کانگریس پارٹی کی جانب سے ضلع دھاراشیو کے تلجا پور تعلقہ میں سورت گاؤں سے تلجا پور تک نکالی گئی تھی، جس میں پارٹی کے لیڈران، عہدیداران، کارکنان، خواتین اور کسان بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس یاترا کا اختتام تلجا پور کے شاردا ہال میں ایک عوامی جلسے کے ساتھ ہوا۔ اس دوران ایل پی جی گیس کے بحران کی جانب توجہ مبذول کرانے کے لیے گیس سلنڈروں سے لدے ٹریکٹر بھی شامل کیے گئے، جو اس پروگرام کا خاص مرکزِ توجہ رہے۔

اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ موجودہ وقت میں کسان قدرتی اور انسانی بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں، انہیں اپنی پیداوار کی مناسب قیمت نہیں مل رہی اور کسانوں کی خودکشیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی مرکزی حکومت کی جانب سے امریکہ کے ساتھ کیے گئے تجارتی معاہدے پر بھی انہوں نے تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اس سے ہندوستان کی زراعت اور کسانوں کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ ان کے مطابق بی جے پی حکومت کی پالیسیاں کسان مخالف ہیں۔ انہوں نے بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک اور مہاراشٹر میں حکمرانی کا نظام انتشار کا شکار ہے۔ کسان، مزدور، خواتین اور نوجوانوں کے مسائل دن بہ دن بڑھتے جا رہے ہیں، جبکہ مہنگائی اور بے روزگاری میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ سپکال نے دعویٰ کیا کہ ایل پی جی سلنڈر، پٹرول اور ڈیزل جیسے بنیادی وسائل کی دستیابی بھی متاثر ہو رہی ہے، لیکن حکومت اس جانب سنجیدگی سے توجہ نہیں دے رہی۔

کانگریس کے ریاستی صدر نے مزید کہا کہ ملک میں جمہوری اقدار کو کمزور کر کے آمریت مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور آئین کی روح کے برخلاف ایم ایس گولواکر کے نظریات کو نافذ کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ دیوندر فڑنویس مہاراشٹر دھرم کی توہین کر رہے ہیں۔ ناسک کے مبینہ ڈھونگی بابا اشوک کھرات کے معاملے پر بات کرتے ہوئے سپکال نے اسے نہایت قابلِ مذمت اور شرمناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شیواجی، شاہو، پھلے اور امبیڈکر کی ترقی پسند فکر رکھنے والی ریاست میں رجعت پسند سوچ کے فروغ کے باعث ایسے عناصر کو موقع مل رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں صرف استعفیٰ لے کر معاملہ ختم نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ اس میں ملوث تمام افراد، چاہے وہ وزراء ہوں، ارکانِ اسمبلی یا سرکاری افسران، ان کے خلاف توہم پرستی مخالف قانون کے تحت کارروائی کی جائے اور اس پورے معاملے کے اصل ذمہ دار کو بے نقاب کیا جائے۔ سپکال نے یہ سوال بھی کیا کہ اگر وزیر اعلیٰ کو اس معاملے کی معلومات گزشتہ کئی مہینوں سے تھیں تو اب تک کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔ ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ مہاراشٹر کو ایک کل وقتی وزیر داخلہ دیا جانا چاہیے تاکہ ایسے معاملات پر مؤثر نگرانی ممکن ہو سکے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading