اٹاوا میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ اور سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر رام شنکر کٹھیریا کے سیکورٹی اہلکاروں نے آگرہ واقع ایک ٹول پلازہ ملازمین کی زبردست پٹائی کر دی جس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ سیکورٹی اہلکاروں نے یہ ظلم رکن پارلیمنٹ کٹھیریا کی موجودگی میں ڈھایا۔ میڈیا ذرائع کے مطابق کٹھیریا کے آدمیوں نے ٹول پلازہ کے پاس فائرنگ بھی کی۔ پورے واقعہ کی شکایت ٹول پلازہ اہلکاروں نے پولس سے کی ہے۔
میڈیا میں آ رہی خبروں کے مطابق آگرہ میں 6 جولائی کی علی الصبح رہن کلا ٹول پر غنڈہ گردی دیکھنے کو ملی۔ اِنر رنگ روڈ کے رہن کلا ٹول پر تنازعہ کے بعد کٹھیریا کے سیکورٹی گارڈوں نے وہاں قانون اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ ان لوگوں نے وہاں پر ٹول ملازمین کی ڈنڈوں سے پٹائی کرنے کے ساتھ ہی ہوائی فارئنگ بھی کی۔ رکن پارلیمنٹ کٹھیریا کے ساتھ چل رہے سیکورٹی اہلکاروں نے بھی ٹول ملازمین کو دہشت میں مبتلا کرنے کے لیے خوب ہنگامہ آرائی کی۔
#WATCH Agra: Security Personnel of BJP MP and Chairman of National Commission for Scheduled Castes Ram Shankar Katheria, thrash toll plaza employees and fire in the air after an argument. Katheria was also present at the spot pic.twitter.com/W8g5Wo4bN6
— ANI UP (@ANINewsUP) July 6, 2019
خبروں کے مطابق رکن پارلیمنٹ کٹھیریا چار لگزری گاڑی اور ایک بس کے قافلہ کے ساتھ دہلی سے ایٹاوا جا رہے تھے۔ ٹول اہلکار نے ان کی گاڑی کو چھوڑ کر دیگر گاڑیوں کا ٹول ٹیکس مانگا، اور اسی بات پر سیکورٹی گارڈس نے اس کی پٹائی شروع کر دی۔ ٹول پر باؤنسروں نے جب اس کی مخالفت کی تو رکن پارلیمنٹ کے سیکورٹی اہلکاروں نے وہاں برسرعام فائرنگ کی۔ یہ پورا معاملہ وہاں پر موجود سی سی ٹی وی میں قید ہو گیا ہے۔ اس دوران سی سی ٹی وی میں رکن پارلیمنٹ کٹھیریا خود بھی گاڑی سے اتر کر ٹول ملازمین سے بدتمیزی کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
ایک ہندی نیوزی ویب سائٹ کی خبر کے مطابق سیکورٹی گارڈس نے 2 راؤنڈ گولی چلانے کے بعد ان باؤنسروں کو دھمکایا جو کہ ٹول اہلکار کی دفاع کے لیے سامنے آئے تھے۔ اس کے بعد کٹھیریا اور ان کی بیوی نے بھی ٹول اہلکاروں کو پیٹا۔ واقعہ کے بعد ٹول مالک نے تھانہ اعتماد پور میں شکایت کی ہے۔ اس واقعہ میں چار ٹول اہلکاروں کے ساتھ ایک باؤنسر بھی زخمی ہوا ہے۔
یہ ایک سینڈیکیٹیڈ فیڈ ہے ادارہ نے اس میں کوئی ترمیم نہیں کی ہے. – Source بشکریہ قومی آواز بیورو—-
