بیویوں کے ستائے ہوئے شوہر کیا کریں؟

ایک صاحب کا فون آیا : ” آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں – ایک نجی معاملے میں مشورہ کرنا ہے – “ میں نے کہا :” تشریف لائیے – “

وہ آئے – گفتگو شروع کرنے سے پہلے کچھ جھجھکے ، کچھ شرمائے ، پھر بولنا شروع کیا تو بولتے چلے گئے – ان کی گفتگو کا خلاصہ یہ تھا کہ وہ بیوی کے ساتھ رہتے ہوئے اتنا پریشان ہوگئے ہیں کہ اب اس سے چھٹکارا چاہتے ہیں – اس کی کیا ترکیب ہے؟ اس سلسلے میں مشورہ چاہتے ہیں –

چند برس پہلے میری ایک کتاب ‘ گھریلو تشدّد اور اسلام’ کے نام سے شائع ہوئی ہے – اس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ موجودہ دور میں خاندان کے دائرے میں عورتوں پر مظالم ایک عالمی مظہر ہے – دنیا کے تمام ممالک میں ان پر تشدّد کیا جارہا ہے اور حکومتوں کے ذریعے تمام تر انسدادی تدابیر اختیار کیے جانے کے باوجود اس کی روک تھام نہیں ہوپارہی ہے – اس موقع پر مطالعہ کے دوران مجھے معلوم ہوا تھا کہ تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے – بہت سے شوہر بھی بیویوں کی طرف سے مظالم کا شکار ہیں – ایسے لوگوں کی مدد کے لیے کئی NGOs کام کر رہی ہیں ، جن میں سے درج ذیل قابلِ ذکر ہیں :

My Nation Hope Foundation
Save Indian Family Foundation

تین برس قبل مجھے اورنگ آباد (مہاراشٹر) میں ‘خاندان : نظریات ، روایات اور اثرات ‘ کے موضوع پر منعقدہ ایک سمینار میں شرکت کرنے کا موقع ملا تھا – اس میں ایک شریکِ سمینار کی اس اطلاع سے دیگر شرکاء بہت محظوظ ہوئے تھے کہ وہ 2016 سے ‘ پتنی پیڑت پُرُش آشرم’ ( بیویوں کے مظالم کے شکار مردوں کی عافیت گاہ) چلاتے ہیں ، جو شہر اورنگ آباد سے 12 کلو میٹر دور ممبئی شِرِڈی ہائی وے پر واقع ہے _ مختصر عرصے میں اس آشرم میں 8 ہزار سے زیادہ لوگ اپنا رجسٹریشن کرواچکے ہیں –

اب تک بیویوں کے ذریعے شوہروں پر مظالم کا علم مجھے یا تو مذکورہ NGOs کے ذریعے ہوا تھا یا اورنگ آباد کے سمینار میں مظلوم شوہروں کا آشرم چلانے والے مقالہ نگار سے ، لیکن اب میں براہ راست ایک مظلوم شوہر سے اس کی آپ بیتی سن رہا تھا – انھوں نے بہت تفصیل سے اپنے حالات سنائے ، جس کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے :

” میرا نکاح کورونا شروع ہونے سے کچھ پہلے ہوا – اس وقت میں پی ایچ ڈی کر رہا تھا – اپنے مصارف پورے کرنے کے لیے میں کچھ کام کرلیتا تھا ، لیکن آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ نہیں تھا – کورونا ہوتے ہی میں بے روزگار ہوگیا – میری بیوی تعلیم یافتہ تھی – اسے کورونا کے دوران میں بھی تدریس کا کام کرنے کا موقع ملا – وہ اپنی آمدنی اپنے پاس ہی رکھتی تھی – میں جیسے تیسے گھر کا خرچ چلاتا تھا – کبھی میرے پاس کچھ پیسے نہیں رہتے اور بیوی محسوس کرلیتی تو وہ مجھ سے دریافت کرکے کچھ رقم مجھے دے دیا کرتی تھی –

پھر یوں ہوا کہ گھر میں رہنے کی وجہ سے کھانا پکانے کی ذمے داری میری قرار پائی – میں آٹا گوندھتا ، روٹی پکاتا ، دوسری چیزیں تیار کرتا – بیوی کوئی کام نہ کرتی – کھانا کھانے کے بعد مجھے ہی برتن دھونا پڑتا – گھر میں جھاڑو لگانا بھی میرا ہی کام ٹھہرا – بیوی کو کسی کام سے واسطہ نہ تھا – کچھ دنوں کے بعد مجھے ایسا محسوس ہونے لگا کہ میری بیوی کو میری صورت میں ایک فرماں بردار نوکر مل گیا ہے – اس احساس نے میری بیزاری میں اضافہ کیا اور گھر میں توٗ توٗ مَیں مَیں ہونے لگی – بیوی نے ذرا بھی لحاظ نہ کیا – ایک بار میں نے اس پر ہاتھ اٹھا دیا تو اس نے پلٹ کر جواب دیا اور میری پٹائی کردی –

ایک بار بیوی نے کشمیر گھومنے کی خواہش کی – میں نے منع کردیا – اس نے تنہا ٹکٹ بک کرلیا اور چلی گئی – پانچ دن کے بعد واپس آئی – نکاح کے بعد یہ پانچ دن میری زندگی کے سب سے زیادہ آرام دہ دن تھے ، جن میں میں ہر طرح کے ٹینشن سے آزاد رہا – اِدھر چھ ماہ سے بیوی اپنے میکے میں ہے – اب میرے دل میں بیوی سے ذرا بھی محبت باقی نہیں رہ گئی ہے – اس کی میرے پاس موجودگی میرے لیے اذیت کا سبب اور اس کی مجھ سے دوٗری میرے لیے راحت کا باعث بنتی ہے – میں اس سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہوں – کیا کروں؟ “

موصوف کی یہ بپتا میرے لیے بڑی حیرت اور صدمے کا باعث تھی – نکاح کے دو بول بولتے ہی عموماً زوجین کے دلوں میں ایک دوسرے سے محبت پیدا ہوتی ہے – دونوں مل کر زمانے کے سرد و گرم برداشت کرتے ہیں ، لیکن یہاں معاملہ اس کے برعکس تھا – قرآن نے شوہر کو ‘قوّام’ بنایا ہے ، لیکن اگر کسی گھر کی قوّام بیوی بن جائے تو یہی حشر ہوتا ہے –

میں نے انھیں مشورہ دیا کہ حالات کو سدھارنے کی آخری کوشش کرلیں – اپنے والدین کو تفصیل سے بتائیں اور اپنے ساس سسر کو بھی – پھر ان کی مشترکہ میٹنگ کرلیں ، جس کا ایجنڈا یہ ہو کہ آئندہ شوہر و بیوی کے کیا فرائض ہوں گے ، جن پر ان میں سے ہر ایک کو عمل کرنا ہوگا اور کیا حقوق ہیں ، جو ہر ایک کو حاصل ہونے چاہئیں – لیکن وہ کسی طرح اس رشتے کو باقی رکھنے پر تیار نہ تھے – ان کا اصرار تھا کہ میں ہر حال میں بیوی سے پیچھا چھڑانا چاہتا ہوں – اس کی ترکیب بتائیے –

میں نے کہا : ” رشتہ ختم کرنا ہو تو بھی اس کا سب سے آسان طریقہ یہی ہے کہ دونوں خاندانوں کے بزرگوں کی مفاہمت سے ایسا کیا جائے – اگر آپ جذبات میں آکر طلاق دے دیں گے تو اس کا امکان ہے کہ دوسرا فریق پولیس اسٹیشن میں رپورٹ یا ملکی عدالت میں مقدمہ دائر کردے ، جس کی وجہ سے آپ کو چکّر کاٹنے پڑیں ، بھاری مصارف برداشت کرنے پر مجبور ہوں اور برسوں رشتہ ختم نہیں ہوپائے ، اس لیے دانش مندی اسی میں ہے کہ اہلِ خاندان کو اعتماد میں لے کر طلاق یا خلع کے ذریعے رشتہ ختم کرنے کی کوشش کریں – “

محمد رضی الاسلام ندوی

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading