لوک سبھا انتخاب کے نتائج اور مودی حکومت کی حلف برداری کے بعد سے ہی بہار این ڈی اے میں شگاف نظر آنے لگا ہے۔ تازہ مثال نتیش کابینہ کی توسیع میں دیکھنے کو ملا جہاں بی جے پی لیڈروں کو ٹھینگا دکھاتے ہوئے صرف جنتا دل یو کے 8 لیڈروں نے وزارتی عہدہ کا حلف لیا۔ اتوار کو نتیش کابینہ کی توسیع ہوئی اور جنتا دل یو کے 8 اراکین اسمبلی نے عہدہ اور رازداری کا حلف لیا۔ جن اراکین اسمبلی نے آج حلف لیا ان کے نام ہیں اشوک چودھری، شیام رجک، ایل پرساد، بیما بھارتی، رام سیوک سنگھ، سنجے جھا، نیرج کمار اور نریندر نرائن یادو۔
Bihar cabinet expansion: JDU leaders Ashok Choudhary, Shyam Rajak, L Prasad, Beema Bharti, Ram Sevak Singh, Sanjay Jha, Neeraj Kumar and Narendra Narayan Yadav took oath as ministers today https://t.co/WiJXIKKDM8
— ANI (@ANI) June 2, 2019
غور طلب ہے کہ اس سے پہلے نتیش کمار نے مودی حکومت میں جنتا دل یو کی طرف سے وزارتی عہدہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ جنتا دل یو کے حصے میں ایک رکن پارلیمنٹ کو وزیر بنانے کی تجویز ملی تھی، جسے انھوں نے مسترد کر دی ہے۔ نتیش کمار نے کہا تھا کہ جس حساب سے ان کی پارٹی نے بہار میں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور فتح حاصل کی ہے، اس کے مطابق ایک جنتا دل یو رکن پارلیمنٹ کو وزیر بنانا مناسب نہیں تھا۔ نتیش کمار نے بتایا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے وزارتی عہدہ لینے سے منع کر دیا تھا۔ نتیش کمار نے کہا تھا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت کو ان کی پارٹی کی حمایت تو جاری رہے گی، لیکن وہ وزارتی عہدہ قبول نہیں کریں گے۔
قابل غور ہے کہ مودی حکومت کی حلف برداری تقریب کے دن سے ہی بہار این ڈی اے میں شگاف نظر آنے لگا ہے۔ لیکن اب نتیش کمار نے بہار کابینہ کی توسیع میں بی جے پی اراکین اسمبلی کو جگہ نہ دے کر اس بات پر مہر لگا دی ہے کہ بہار این ڈی اے میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا۔ اب آگے دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ پی ایم مودی اور بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کے درمیان بات چیت کب تک ممکن ہو پاتی ہے یا پھر دونوں پارٹیاں ایک بار پھر الگ الگ راستہ اختیار کریں گی۔
– Source بشکریہ قومی آواز بیورو—
