بھیونڈی ( شارف انصاری ):- بھیونڈی شہر کی تقریبا بارہ لاکھ اور بھیونڈی تعلقہ کی بڑی آبادی کے علاج و معالجہ کے لئے صرف ایک اسپتال ہے اندراگاندھی اسپتال بھیونڈی شہر کےاندراگاندھی اسپتال میں ہونے والی ڈیلیوری تھانے کے سول اسپتال سے بھی زیادہ ہے اور باوجودیکہ بھیونڈی شہر میں ہوم ڈیلیوری تقریبا 25 فیصد ہے پھر بھی آج تک بھیونڈی شہر میں کوئی ڈیلیوری سینٹر قائم نہیں کیا گیا ۔
بھیونڈی کے لوگ ڈیلیوری کے بھیونڈی اندراگاندھی اسپتال سے زیادہ ممبئی کے کاما اسپتال میں جاتے ہیں کیونکہ بھیونڈی شہر میں نا ڈیلیوری سینٹر ہیں اور نا ہی اندراگاندھی اسپتال میں ایمرجنسی کوئی سہولت ہے یہ رہی زندہ مریضوں کی باتیں مگر بھیونڈی کے اندراگاندھی اسپتال میں بنے پوسٹ مارٹم روم اور لاشوں کو محفوظ رکھنے کے لئے بنے فریجر کی حالت کافی قابل رحم ہے گزشتہ دنوں یہ بات لوگوں کے سامنے آچکی ہے کہ لاشیں سڑ جاتی ہیں ڈی فریجر نہیں ہونے کی وجہ سے لاشیں باہر پڑی رہ جاتی ہیں اور اکثر لاشیں اس لئے خراب ہوجاتی ہیں اور کیڑے پڑ جاتےہیں کہ فریجر خراب پڑے رہتے ہیں اور اے سی بگڑا پڑا رہتا ہے اور چونکہ بھیونڈی اور پورے بھیونڈی تعلقہ کی لاوارث لاشیں یا متنازعہ لاشیں اسی جگہ لائی جاتی ہیں جہاں رکھنے کی جگہ نہیں ہے اور اگر شہر کے کسی شخص کی لاش کو چند گھنٹے روکنا پڑ جائے یا کسی جگہ ٹرانسفر کرنے کی ضرورت ہو تو بھیونڈی شہر میں سرکاری یا پرائیویٹ میں لاش کو محفوظ رکھنے کیلئے کوئی انتظام نہیں ہے ۔البتہ قابل مبارکباد ہیں بھیونڈی شہر کے انصاری روڈ کے وہ نوجوان جنھوں نے ایک ڈی فریجر کا انتظام شہر کے ضرورت مندوں کےلئے کیا ہے اور بالکل مفت میں یہ ڈی فریجر ضرورت مندوں کو لاشیں محفوظ رکھنے کیلئے فراہم کیا جاتا ہے ۔

اس سلسلےمیں ہیلپنگ ہینڈ شوسل اینڈ ویلفئر ٹرسٹ کے نام سے جاری اس خدمات کو انجام دینے والے ابرار احمد اور حاجی حسیب عرف حشو نے بتایا کہ ہم میڈیکل فیلڈ میں برسوں سے کام کرتے آرہے ہیں اور ضرورت مندوں کے علاج و معالجہ کے لئے بھی ہم کوشش کرتے ہیں ۔اس سلسلےمیں ہم نے دیکھا کہ بسا اوقات میت کو ممبئی سے لانے میں کئی گھنٹے چلے جاتےہیں اور پھر کسی کسی اعزہ و اقرباء کے انتظار میں مزید وقت لگتا ہے اور اگر حادثاتی میت ہے یا ہارٹ اٹیک سے موت ہوئی ہو تو اسے زیادہ دیر تک روک پانا بڑا مشکل ہوجاتا ہے اسی مشکل کو حل کرنے کے لئے ہم نے ڈی فریجر کا انتظام کیا ہے اور فری میں یہ سہولت ہم فرہم کرتے ہیں ۔لوگ اسے لے کر جاسکتے ہیں اور کام پورا ہونے پر لا کر واپس کردیں اور اس خدمت کے صلہ میں ہم صرف دعاوں کے طالب ہیں ۔