بھیونڈی کی سڑکوں پر گڑھے ‘سوشل میڈیا پر نیا ہنگامہ

 اب نیا نعرہ بھیونڈی میں گونج رہا ہے "بھیونڈی کی ٹوٹی سڑکیں اڑتی دھول، کہاں ہے پنجا کہاں ہے کمل کا پھول” 

بھیونڈی (شارف انصاری):-برسات کا موسم ختم ہوگیا لیکن بھیونڈی کی سڑکوں پر آج بھی بے شمار گڈھے موجود ہیں۔ فرق اتنا ہی ہوا ہے کہ برسات کے وقت گڑھو سے پر سڑکوں سے گندا پانی اور کیچڑ اڑتا تھا۔ اب ان گڑھوں والی سڑکوں سے دھول اور غبار اڑ رہا ہے ۔اڑنے والی دھول سے پورا ماحول دھندلا ہوگیا ہے ۔ جس سے عوام کی صحت پر انتہائی مضر اثرات پڑرہے ہے۔ شہری خراب سڑکوں سے بے حد پریشان ہیں ۔ لوگ رہنماؤں کے جھوٹے وعدوں سے اوبھ چکی ہیں ۔ اس لئے آج کل بھیونڈی کے سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے چلا جارہا ایک نعرہ ان دنوں کافی سرخیوں میں ہے "بھیونڈی کی ٹوٹی سڑکیں اڑتی دھول ، کہ ہے پنجا کہاں کنول کا پھول ” اب بھیونڈی کی عوام کے صبر کا باندھ ٹوٹ چکا ہے بھیونڈی کی انتہائی خراب سڑکوں کو لے کر عوام کسی بھی سیاسی پارٹی کو معاف کرنے کے موڑ میں نہیں ہے سوشل میڈیا پر چل رہے اس طرح کے نعرے یہ طے کرتے ہیں کہ آنے والے لوک سبھا و اسمبلی انتخابات میں سیاسی جماعتوں کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی ۔
واضح ہو کے بھیونڈی شہر کی تمام سڑکیں ان دنوں انتہائی خراب حالت میں ہیں ۔سڑکوں پر ان گنت گڑھے برسات کے وقت سے ابھرے تو آج تک اس کو حکومت و انتظامیہ نے بھر نہیں پایا ۔جس کی وجہ سے شہریوں میں زبردست ناراضگی و برہمی ہے۔ بھیونڈی کا داخلی دروازہ کہی جانے والی اہم سڑک پر بھیونڈی – کلیان روڈ پر یہ اندازہ لگانا مشکل ہوگیا ہے کی سڑکوں پر گڑھے ہیں یا گڑھوں میں سڑک ہیں۔  دوسرے ممالک و ریاستوں اور شہر سے آنے والے افراد پر اس سڑک کو لے کر بہت برا اثر پڑتا ہے ۔ بھیونڈی شہر کی بڑی بدنامی ہورہی ہے یہ عوام محسوس کر رہی ہے ۔کیونکہ یہاں بھی کہا جا رہا ہے کہ کوئی بھی اچھا خاندان بھیونڈی شہر میں اپنی لڑکی دینے کو تیار نہیں ہے۔ یہ مسئلہ سماج میں پوری طرح تشویش اور بحث کا معاملہ ہے۔ شہر میں انجور پھاٹا سے لے کر فاغ فردوش مسجد تک کی سڑک میں ہوئے گھوٹالے کو لے کر بھیونڈی کارپوریشن کے سٹی انجینئر سمیت پانچ انجینئر معطل کر دیئے گئی ہیں ۔ ان کے خلاف جانچ چل رہی ہے ۔ بنا کسی قابل انجینئر کے بھیونڈی کارپوریشن انتظامیہ کا پی ڈی ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ چل رہا ہے۔ یہ سب کرشماتی کام بھیونڈی شہر میں ہی ہوتے ہے۔ بھیونڈی کے میئر جاوید دلوی نے کئی بار یہ کہا کہ بھیونڈی کارپوریشن افسران اور ملازمین انتظامیہ کے افسران کے کنٹرول میں نہیں ہے ۔ وہ اپنے اعلی آفیسران کے ساتھ منتخب ہوئے کارپوریٹروں تک کی بات نہیں سنتے ہیں ۔ کارپوریشن میں کوئی بھی کام حکم کے مطابق نہیں ہوتا ہے ۔ میئر نے کچھ دن پہلے صحافیوں کے سامنے الزام لگایا کہ انہوں نے ایم ایم آر ڈی اے کے تابع کلیان روڈ پر بن رہے فلائی اوور برج کے نیچے کی سڑک بنانے کے لئے جی ایم سی ٹھیکیدار کو کہا گیا تھا ۔ اس میٹنگ میں یہ طے ہوا تھا کہ شہریوں کو گڑھوں سے پر سڑکوں سے نجات کے لئے آنے اور جانے کے راستے پر ایک- ایک پٹے کی سڑک فوری طور پر سی سی بنا دی جائے، تاکہ شہریوں کو گڑھوں اور دھول مٹی سے راحت مل سکے ۔لیکن ٹھیکیدار نے میئر، میونسپل کمشنر اور ایم ایم آر ڈی اے انتظامیہ کی ایک نہ سنی ۔ وہ اپنے مرضی سے کام کررہا ہے۔ اسی طرح سڑک گھوٹالے کے بعد بھی انجور پھاٹا سے باغ فردوس مسجد تک بنائی جارہی ایم ایم آر ڈی کے تحت آرسی سی سڑک کا کام کافی سست روی سے کیا جارہا ہے ۔ شہریوں کو شکایت ہے کہ اس آرسی سی سی سڑک کی تعمیر میں بھاری بدعنوانی کی جارہی ہے ۔ گھٹیا مٹیرئل لگا کر سڑکیب رات میں بنائی جارہی ہے ۔جس کے سبب پوری سڑک بننے سے پہلے ہی سڑکوں میں ابھی سے ہی کئی جگہ شگاف پڑ گئے ہے ۔ اس تناظر میں میونسپل کمشنر اور میئر کی بات کو درکنار کر دیا گیا ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ سڑک کا ٹھیکہ لینے والی کمپنی کوئی اور ہے اور کام کرنے والے لیڈران کے رشتہ دار و تعلقات والے لوگ ہیں۔ جس کی وجہ سے اس معاملے کی تحقیقات نہیں ہوپارہی ہے ۔اسی طرح بھیونڈی شہر کی اہم سڑکیں جس میں تھانہ روڈ، ایس ٹی اسٹینڈ سے گائتری نگر روڈ، زکوة ناکہ ، آنند دیگھے چوک سے شانتی نگر روڈ، درگاہ روڈ، عید گاہ روڈ، آنند دیگھے چوک سے لے کر منڈئی تک کی روڈ، کامت گھر روڈ، تڑالی سے لے کر انجورپھاٹا روڈ، کلیان روڈ سے لے کر سبھاش نگر ہوکر غیبی نگر والی روڈ کے علاوہ اہم سڑکوں کے ساتھ لنک روڈ کی تمام سڑکیں یوں کہا جائے کہ بھیونڈی شہر کی کوئی بھی ایسی سڑک نہیں ہے جہاں سو میٹر کی سڑک بہتر دکھائی یا بتائی جا سکے ۔ ان گڑھوں والی سڑکوں میں صبح سے لے کر رات تک دھول ہی دھول اڑتی رہتی رہی ہے ۔ جس سے شہریوں کی صحت کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے ۔ دوسری طرف رہنماؤں نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ ریاست کی بی جے پی حکومت نے بھیونڈی کی 52 سڑکوں کو آرسی سی بنانے کے لئے 174 کروڑ روپے کی منظوری دے دی ہے اور اس کے ٹینڈر بھی نکل چکے ہیں ۔ ورک آرڈر بھی ہو چکا ہے ۔ ریاست کے وزیر خارجہ اور شہری ترقی برائے وزیر برائے رنجیت پاٹل نے دیڑھ مہینے پہلے بھیونڈی کے 12 سی سی سڑکوں کی تعمیر کے لئے بھومی پوجن کیا ۔ دیڑھ مہینے گزر جانے کے بعد بھی ابھی تک کسی بھی سڑک پر ٹھیک سے کام شروع نہیں ہوسکا ۔ بھیونڈی کی سڑکوں کی خستہ حالی کو لے کر عوام کے صبر کا باندھ اب توٹنے لگا ہے ۔احتجاج و مظاہرہ کر شہری حیران و پریشان ہوگئے ہے ۔ اس لئے اب سوشل میڈیا پر آج کل یہ نعرہ خوب سرخیوں میں چھایا ہوا ہے کی ” بھیونڈی کی ٹوٹی سڑکیں اڑتی دھول کہا پنجا کہاں ہے کنول کا پھول ” اس بارے میں کافی حد تک گہری سچائی پوشیدہ ہے۔ کیونکہ بھیونڈی کارپوریشن پر اکثریت کے ساتھ کانگریس پارٹی کا قبضہ ہے اور بھیونڈی شہر کی دونوں اسمبلی سیٹ پر اتحادی جماعت بی جے پی اور شیوسینا کے رکن اسمبلی ہے ۔ رکن پارلیمان بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کا ہے ۔ مرکز میں بی جے پی اور ریاست میں بھی بی جے پی و شیوسینا کی اتحادی حکومت ہے اس کے بعد بھی بھیونڈی کی یہ خستہ حالی دیکھ کر عوام نے سوشل میڈیا پر ایک دم سچا نعرہ دیا ہے ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading