بھیونڈی کارپوریشن کی 15 دن کے لاک ڈاؤن کی قراداد غیر قانونی , فوری طورپر کالعدم قراد دیا جائے، ایم آئی ایم کے صدر خالد گڈو کی مانگ

Gudduبھیونڈی ( شارف انصاری ):- کورونا کی وبا بھیونڈی کی سیاست کا محور بنتی جارہی ہے، ایک طرف شہر میں لاشوں کے ڈھیر لگتے جارہے ہیں،میتوں کے لیے قبرستان ناکافی ثابت ہورہے ہیں اور دوسری طرف شہر کی سیاست کئی رخ سے گرما رہی ہے۔لاک ڈاؤن کی مار سے اقتصادی طور پرٹوٹ چکی بھیونڈی کی عوام حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں دی گئی ڈھیل میں اپنی معاشی حالت کو پٹری پر لانے کے لیے کوششیں کر ہی رہی تھی کہ کارپوریشن کی جانب سے مورخہ ۸۱ جون سے مزید ۵۱ دن کا لاک داؤن کرنے کی قرارداد پاس کی گئی ہے، اس قرار داد کو ایم آئی ایم کے صد ر خالد گڈو نے غیر قانونی قرار دیا ہے اور کمشنر سے مانگ کی ہے کہ اس قراداد کو کلعدم قرار دیا جائے،

انہوں نے مئیر اورکمشنر پر الزام عائد کرتے ہوئے مکتوب میں لکھا کہ کورونا وائرس کی وبا کے اس دور میں کورانٹائین سینٹر اور اندرا گاندھی اسپتال میں بے تحاشہ بدعنوانی کی وجہ سے شہر میں یک بعد دیگرے جو اموات واقع ہوئی ہیں اور عوام میں کارپویشن کے خلاف جو عدم اطمینان،غم اور غصہ پیدا ہوا ہے اسی کے مدنظر عوام کا دھیان ہٹانے کے لیے کارپوریشن نے۰۹ کاروپوریٹرس میں سے صرف ۰۳ سے ۵۳ کارپوریٹرس کو نوٹس دیکر۶۱ جولائی کو مہا سبھا میں بلایا،جبکہ قانونی اعتبار سے مخصوص سبھا کے لیے دو تہائی یعنی ۰۶ کارپوریٹرس کی موجودگی لازمی تھی،اور ان ۰۳ سے ۵۳ کارپوریٹرس کی موجودگی میں ۸۱ جولائی سے لاک ڈاؤن شروع کرنے کی قرارداد پاس کی گئی جبکہ اسکا اختیار صرف مرکزی اور ریاستی حکو مت کو حاصل ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ اس میٹنگ میں سابق مئیر جاوید دلوی کو بھی بلایا نہیں گیا جسکی شکایت انہوں نے تحریری طور پر کمشنر کو ہے۔مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے کچھ دنون پہلے ہی یہ اعلان کیا تھا کہ ریاست میں اب لاک ڈاؤن نہیں ہوگا اسکے باوجود اپنے اختیارات کا غیر قانونی استعمال کرتے ہوئے کارپوریشن کے حکام اور عہدیداران نے لاک ڈاؤن کی قرارداد پاس کی ہے۔جس کے لیے غیر حاضر کارپوریٹرس کی جعلی دستخط اور بناوٹی کاغذات کے استعمال کی بھی خبریں ہیں۔خالدگڈو نے کارپوریشن کو دھمکی دی ہے کہ ۴۲ گھنٹے میں اس قرارداد کو واپس نہ لینے کی صورت میں ۲۲ جون بروز پیر کو ۳ بجے بھیونڈی کی ساری عوام کو لیکر آندولن کیا جائیگا اس آندلن کے بارے میں حکومت مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھوٹھاکرے کو بھی اس بابت آگاہ کیا گیا ہے۔
خالد گڈو نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ کارپوریشن حکام اور انتظامیہ ابتدا سے ہی کورونا کے خلاف جنگ میں نااہل ثابت ہوئے ہیں، لوگوں کی موت پر بدعنوانی اور سیاست کرنے والی بھیونڈی کارپوریشن کیا مرکزی اور ریاستی حکومت سے بھی اعلی ہے کہ مہاراشٹر مہانگر پالیکا ایکٹ ۹۴۹۱کی کھلی خلاف ورزی کی جارہی ہے اسلیے انہوں نے دفعہ ۲۵۴ کے تحت حکومت مہاراشٹر سے اسے کلعدم قرار دینے کی مانگ کی ہے،  اسی کے ساتھ خالد گڈو نے زون ۲ کے ڈی سی پی راجکمار شندے سے شکایتی مکتوب میں مانگ کی ہے کہ کارپوریشن کے مئیر اور کمشنر نے جس طرح سے جھوٹی دستخط،جعلی دستاویزات کا استعمال کرکے غیر قانونی قرادات پاس کرائی ہے اسکے خلاف جانچ کرکے دفعہ ۶۶۱،الف۶۶۱،۷۶۱،۱۹۱،۲۹۲،۸۹۱،۱۹۹،۰۰۲،۴۶۴،۶۶۴،۸۶۴،۰۷۴ کے تحت ان پر قانونی کاروائی کی جائے۔بھیونڈی کی عوام کورونا وائرس کے اس سیاسی بھونچال میں بڑے شش و پنج کا شکار ہے کہ دیکھئے اب اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading