بھیونڈی :نوجوانوں میں بڑھتے منشیات کے رجحان کے خلاف اہلیان محلہ کی اہم میٹنگ

بھیونڈی ( شارف انصاری):- گزشتہ روز بھیونڈی شہر کے منگل بازار سلیپ پر واقع کھوٹالا مسجد کے صحن میں مقامی نوجوانوں اور مسجد کے امام مولانا محمد عمر صاحب کے ساتھ ٹرسٹیان نے ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے موثر پروگرام کا انعقاد کیا جس میں بطور خاص بھیونڈی شہر کے متعدد اسکول اور کالجز میں منشیات اور اخلاقیات کے عنوان پر اساتذہ ۔طلباء ۔اور والدین کے سامنے ایک مشن کے طورپر گفتگو کرنےوالے مولانا محمد اسعد قاسمی کو مدعو کیا گیا تھا ۔

اس میٹنگ میں بطور خاص امام اور ٹرسٹیان میں سے ڈاکٹر طالش مومن محمد حسین کے ساتھ عتیق الرحمن عرف پلن ۔فاروق عبد الرحمن ۔مومن ذاکر ۔سہیل احمد ۔انصاری شوکت ۔راجو بھائی ۔جبکہ اطراف میں ادارہ اور تنظیم کے طورپر سرگرم عمل رہنےوالے آزاد گروپ ۔شمع عوامی ادارہ ۔حلیمیہ عربی مدرسہ ۔غوثیہ گروپ ۔گلشن مدینہ عربی مدرسہ وغیرہ شریک ہوئے۔اطراف کی مساجد میں جمعہ کے دن جمعہ کے خطبے میں اس موضوع پر بیانات ۔علاقوں میں ان نوجوانوں سے خصوصی ملاقات جو اس لت میں گرفتار ہوچکے ہیں ان کی کونسلنگ اور نشہ آور ادویات یا اشیاء کی تجارت کو روکنے کے لیے عوامی دستخطوں کا سلسلہ اور دستخط شدہ مکتوب پولیسں انتظامیہ کو دینے کے فیصلے لئے گئے ۔اس میٹنگ میں نشہ خوری کی عادت چھڑانے کی دوا بھی بلال گجراتی مولانا محمد اسعد قاسمی کے ساتھ لے کر آئے تھے اور خود میٹنگ میں شریک کئی افراد نے فورا دوائیں لیں اور استعمال کا طریقہ پوچھا بطور خاص فیاض غلام مصطفے نے لوگوں کو جمع کرنے میں دلچسپی لی بینر اور پوسٹر بنانے اور اس ایڈوکیسی میں مضر اثرات لکھنے کا نیز اس علاقےمیں ایک بڑا اسٹیج پروگرام رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا یہ میٹنگ رات تقریبا گیارہ بجے امام کھوٹالہ مسجد جناب مولانا محمد عمر صاحب کی دعا پر ختم ہوئی ۔
واضح ہو کےبھیونڈی شہر کے متعدد مسلم علاقوں اور اردو میڈیم اسکولوں کے آس پاس نشہ خوری اور منشیات کا کاروبار پھیلتا جارہاہے ۔اس کےعلاوہ ایم ایم آر ڈے اے کے متنازع بیت الخلاء ۔ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے خستہ حال سینٹرس ۔اور ٹوٹی کھڑکیوں اور ٹوٹے دروازوں والی اسکولیں اور قبرستان منشیات کے کاروبار اور استعمال کے بڑے اڈے ہیں ۔ جبکہ حقہ پارلر بھیونڈی شہر کے اندر درجنوں کی تعداد میں ہیں نیز شہر کے نواحی علاقوں میں جیسے ملت نگر کے پیچھے ندی کے کنارے ۔شاندار مارکیٹ ۔ورال دیوی تالاب کے اطراف کی جھاڑیوں میں اسکولی طلباء صبح ہی صبح یونی فارم میں بستے کے ساتھ مکمل آزادی سے سگریٹ گٹکھے کا استعمال اور موبائل پر انگلیاں پھیرتے نظر آتے ہیں اور اب تو بڑے بزرگوں کی عدم روک ٹوک اور پولیس انتظامیہ کی نا صرف لاپرواہی بلکہ ایسی برائیوں میں لپت نوجوانوں کی حوصلہ افزائیوں نے ان بچوں کو انتا جری اور بے فکر بنا دیا ہے کہ کھلے عام ہوٹلوں پر بڑے بزرگوں کی موجودگی میں بھی لمبے کش لینےمیں بھی انھیں کوئی شرم محسوس نہیں ہوتا ۔حیرت کی بات یہ ہے کہ کالجز کے طلباء منشیات کا کاروبار کرنے والوں کےلئے لقمہ تر بن رہےہیں جس کا علم اساتذہ پرنسپل ہیڈ ماسٹر اور اداروں کے مینجمنٹ کو بھی بخوبی ہے ٹیوشن کلاسس میں پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ غیر حاضر ہونے پر والدین کو فون سے مطلع کیا جائےگا اور اب ترغیب دی جارہی ہے کہ آپ نہیں بھی آئیں گے تو کوئی بات نہیں حاضری بھر دی جائے گی۔ بیشتراسکولوں کے اساتذہ کو صرف سلیبس کتابوں کے تکمیل کی فکر ہے مینجمنٹ کو سو فیصد رزلٹ کی مساجد کے خطاب اور جمع کے بیان میں نوجوانوں کی ان بے راہ روی اور بگڑتی عادات کو کبھی موضوع نہیں بنایا جاتا الا ماشااللہ ۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading