بھیونڈی میں ہجومی تشدد کے خلاف راشٹروادی کانگریس پارٹی کا زبردست احتجاجی مورچہ

بھیونڈی (شارف انصاری ):- بھارتیہ جنتا پارٹی کے حکومت میں آنے کے بعد آئے دن ہونے والے ہجومی تشدد کے خلاف جہاں ملک میں ہر طرف سیکولر اور امن پسند عوام اپنا احتجاج درج کر رہی ہے ۔وہی بھیونڈی راشٹروادی کانگریس پارٹی نے مورخہ ۴ جولائی کو موسلادھار بارش کے باجود بھی زبردست احتجاجی مورچہ نکال کر اپنے غم اور غصہ کا اظہار کیا ہے۔تبریز انصاری کی ہلاکت نے جہاں ملک کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے وہی سیاسی پارٹیوں کی جانب سے راشٹروادی نے پہل کر تے ہوئے عوام کے جذبات کو حکومت تک پہنچایا۔بی جے پی کی پچھلی حکومت میں اور حالیہ حکومت کی ابتدا میں ہی ہجومی تشدد کی باڑھ نے سیکولر عوام کو شش و پنچ میں مبتلا کر دیا ہے کہ یہ پارٹی سب کا ساتھ سب کا وکاس نعرہ کہ ساتھ حکومت میں آئی تھی مگراقلیتوں اور دلتوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔انتظامیہ اور پولیس پر پکڑ کمزور ہوجانے کے سبب غیر سماجی اراکین آئے دن مذہب کی برتری کی نام پر لوگوں کو راستوں اور چوراہوں پر پکڑ کر ہلاک کر دیتے ہیں۔بھیونڈی میں مذکورہ مورچہ دوپہر چار بجے اشوک نگر گیٹ سے نکلا جس میں کثیر تعدا د میں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے عہدیداران اور کارکنان کے ساتھ بڑی تعداد میں عوام موجود تھی، یہ جم غفیر پرانت آفس پہنچا جہا ں راشٹروادی بھیونڈی کے صدر خالدگڈو کی قیادت میں پرانت افسر کو میمورینڈم سونپا گیا، تاکہ ریاستی اور مرکزی حکومت تک اس احتجاج کی صداپہنچائی جا سکے۔میمورینڈم سے متعلق خالد گڈو نے بتایاکہ بی جے پی کی قیادت والی اس حکومت نے ملک کو بارود کے ڈھیر پر پہنچا دیا ہے۔قومی ایکتا کا جو تانا بانا ہمارے اسلاف نے کئی صدیوں کی محنت سے جوڑا تھا اور انتھک کوششوں سے اسے قائم رکھا تھا پچھلے پانچ سال میں اسے بی جے پی اور آر ایس ایس نے تباہ کر دیا ہے۔کسی معصوم اور بے گناہ شخص کو محض اسکے مذہب اور زات کی وجہ سے گھیر کر ختم کردینا ایک غیر انسانی اور گھناؤنا عمل ہے، جسکی راشٹروادی کانگریس بھر پور مذمت کرتی ہے۔ صدر اور وزیر اعظم کے نام اس میمورینڈم میں لکھا گیا کہ جھارکھنڈ میں تبریز انصاری پر ہونے والا گروہی تشدد اور پچھلے دنوں ممبرا میں ایک مسلم ٹیکسی ڈرایؤر کے ساتھ جئے شری نام کا نعرہ لگوانے کی زبردستی کی گئی اور تشدد کیا گیا۔ بی جے پی کی مرکزی حکومت اور وہ ریاستیں جہاں بی جے پی حکومت میں ہے وہاں یہ واقعات کثرت نے رونما ہورہے ہیں جو ایک ترقی یافتہ سیکولر سماجی ڈھانچے پر بدنما داغ ہے۔انہوں نے حکومت سے مانگ کی کہ گروہی تشدد کے خلاف قانون سازی کی جائے اور حالیہ دنوں میں رونما ہونے والے واقعات کو فاسٹ ٹریک کورٹ میں حل کرکے مجرمین کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، تاکہ دوبارا اس قسم کے واقعات رونما نہ ہونے پائے۔راشٹروادی پارٹی کے اس احتجاجی مورچہ میں خالد گڈو کی قیادت میں ابرار انصاری،شہاب عرب،ممتاز انصاری،فیض عالم،غلام خان،ساقب مومن تیجا،سواتی کامبلے،پرویز فلاحی،انور انصاری،غیاث الدین انصاری،سنیل چترودیدی، خرم اقبال انصاری ، ارشاد انصاری ، عدنان مومن،سنیل پوار،سلیم چودھری،زاہد شاہ،خورشید للو،عبداللہ پپو،ایڈوکیٹ آصف مومن کے ساتھ بڑی تعداد میں عوام شریک تھی ۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading